’’ ٹی وی پر حالات پرسکون ہیں‘‘: سوڈانی اناؤنسر کا ہوائی فائرنگ کے دوران اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اضافے کے ساتھ ’’ العربیہ‘‘ اور ’’ الحدث‘‘ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ سریع الحرکت فورسز خرطوم میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی عمارت میں داخل ہوگئی ہیں۔

مقامی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے مناظر میں ایک اناؤنسر کو سوڈان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نمودار ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس نے کہا سوڈانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے اندر حالات پرسکون ہیں۔ اس دوران پس منظر میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ سوڈان ٹی وی نے اس سے قبل اپنے احاطے میں فائرنگ کی اطلاعات کے بعد نشریات معطل کر دی تھیں۔

ہفتے کے روز عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈانی فوج اور دوسری طرف البرہان کے سابق اتحادی محمد حمدان دقلو المعروف ’’ حمیدتی‘‘ کی زیر قیادت سریع الحرکت فورسز کے درمیان الخرطوم میں پرتشدد جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔

سوڈانی فوج اور پیرا ملٹری ’’ سریع الحرکت فورسز‘‘ کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی اور ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ جھڑپیں البرھان اور دقلو کی جانب سے تنازعات کو بڑھاوا نہ دینے پر اتفاق کی خواہش کے اظہار کے باوجود شروع ہوگئیں۔

دونوں فوجی دستوں کے درمیان تنازعات گزشتہ بدھ کو ’’مروی‘‘میں شروع ہوئے جب ریپڈ ایکشن فورسز نے تقریباً 100 فوجی گاڑیوں کو وہاں کے فوجی ایئر بیس کے قریب ایک مقام پر دھکیل دیا جس سے فوج مشتعل ہوگئی۔ فوج نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سریع الحرکت فورسز کے انخلا پر زور دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں