سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوار کی صبح سوڈان کے فوجی سربراہ عبدالفتاح البرہان اور سریع الحرکت فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلوحمیدتی سے دوفون کالز کی ہیں اور ان سے جمہوریہ سوڈان میں سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے جہاں ہفتے کے روز متحارب فورسز کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیرخارجہ نے ان سے گفتگو میں سعودی عرب کی جانب سے متحارب فورسز کے درمیان مسلح کشیدگی کے خاتمے اور سویلین قیادت والی حکومت کو اقتدار کی منتقلی کے فریم ورک معاہدے پرعمل درآمد کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔
سوڈانی فوج نے اتوار کے روز آر ایس ایف کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں جس میں اقوام متحدہ کے تین کارکنوں سمیت کم سے کم ساٹھ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
ہفتے کے روزخرطوم کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر السعودیہ ایئرلائنز کا ایک طیارہ بھی طرفین کے درمیان لڑائی میں فائرنگ کا نشانہ بنا تھا، تاہم عملہ کے تمام ارکان اورمسافروں کو بہ حفاظت سعودی سفارت خانے منتقل کردیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 2019ء میں سابق صدرعمرالبشیر کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے۔سویلین حکمرانی کی طرف منتقلی کے حصے کے طور پرآرایس ایف کو فوج میں ضم کرنے پر اختلافات کی وجہ سے لڑائی شروع ہوئی تھی۔
مصراورجنوبی سوڈان دونوں کی حکومتوں نے متحارب فورسزکے درمیان ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ خرطوم سے آج شدید فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں اور دونوں فریقوں نے صدارتی محل سمیت اہم تنصیبات کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔سوڈانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صدارتی محل کادوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
فوج نے ایک بیان میں کہا ہے:’’فتح کی گھڑی قریب ہے۔ہم باغی سریع الحرکت ملیشیا کی جانب سے کی جانے والی اس غیرذمے دارانہ مہم جوئی میں معصوم جانوں کے ضیاع پررحم کی دعا کرتے ہیں۔ان شاءاللہ جلد ہی ہمارے پاس صبر کرنے والے اور قابل فخر لوگوں کے لیے اچھی خبرہوگی‘‘۔
دریں اثناء سوڈان کی ایم ٹی این ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی نے سرکاری ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیٹر کے حکم پرانٹرنیٹ سروسزبند کردی ہیں۔خرطوم اور ملک کے کئی دیگرشہروں میں سوڈان کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کی سہ پہراپنی نشریات بند کر دی تھیں۔