یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے پیر کو کہا ہے کہ سوڈان میں اقتدار کے لیے جدوجہد کرنے والے دو حریف جرنیلوں کے درمیان لڑائی نے ملک کو تشدد کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس دوران سوڈان کے دار الحکومت خرطوم میں یورپی یونین کے سفیر پر ان کے اپنے گھر میں ہی حملہ کردیا گیا۔
بوریل نے ٹویٹر پر لکھاکہ کچھ گھنٹے قبل سوڈان میں یورپی یونین کے سفیر پر ان کی اپنی رہائش گاہ میں حملہ کیا گیا۔ یہ ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سفارتی احاطے اور عملے کی حفاظت سوڈانی حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت آنے والی ایک ذمہ داری ہے۔
یورپی یونین کی ترجمان نبیلہ مسریلی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یورپی یونین کے سفیر آئرش کے سفارت کار ایڈن اوہارا حملے کے بعد "ٹھیک" ہیں۔ عملے کی حفاظت ہماری ترجیح ہے۔ یورپی یونین کے وفد کو سوڈان سے نہیں نکالا گیا۔ تاہم حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سوڈان کی فوج اور نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان ہفتہ کے روز سے شروع ہونے والی لڑائی کے تین دنوں میں اب تک 180 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1800 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
-
واشنگٹن سوڈان میں لڑائی روکنے کے لیے فوجی قیادت سے رابطے میں ہے:وائٹ ہاؤس
سوڈان میں امریکی سفارت خانے کے ذرائع نے پیر کی شام ’العربیہ‘ کو اطلاع دی کہ سریع ...
بين الاقوامى -
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سوڈان میں فوری خانہ جنگی روکنے کی اپیل
بیرونی دنیا کی تشویش کی قدر کرتے ہیں لیکن موجودہ صورت حال اندرونی معاملہ ہے: ...
بين الاقوامى -
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی سوڈان میں متحارب فریقوں سے لڑائی روکنے کی اپیل
بیرونی دنیا کی تشویش کی قدر کرتے ہیں لیکن موجودہ صورت حال اندرونی معاملہ ہے: ...
بين الاقوامى