سوڈان میں امریکی سفارت خانے کے ذرائع نے پیر کی شام ’العربیہ‘ کو اطلاع دی کہ سریع الحرکت فورسزنے سفارت خانے کی ایک بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ذرائع نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے جان بوجھ کر گاڑی پر 100 گولیاں داغیں۔
پیر کو وائٹ ہاؤس نے اطلاع دی کہ امریکی حکام سوڈان میں فوجی قیادت کے ساتھ سے رابطے میں ہیں تاکہ وہ فوری طور پر لڑائی کو روکا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس نے سوڈان میں فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ "ہمیں خرطوم اور سوڈان کے دیگر مقامات سے تشدد میں اضافے پر افسوس ہے۔ ہم سوڈانی مسلح افواج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔"
اس سے قبل سوڈانی فوج نے پیر کے روز سرکاری سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت کا کنٹرول بحال کرنے اور اس پر نشریات کی واپسی کا اعلان کیا تھا۔ جب کہ سریع الحرکت فورسز نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ ٹیلی ویژن کی عمارت پراس کا کنٹرول برقرار ہے۔
سوڈانی فوج کے ٹی وی کی عمارت پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اس نے ایک بیان نشر کیا جس میں سریع الحرکت فورسز کو "ملیشیا" قرار دیا گیا۔
الجيش السوداني يستعيد السيطرة على مبنى التلفزيون وعودة البث إليه#العربية pic.twitter.com/qny8i5LG2P
— العربية (@AlArabiya) April 17, 2023
سوڈان میں سریع الحرکت فورسز نے بھی پیر کے روز ام درمان شہر میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے ہیڈکوارٹر کے کنٹرول کا اعلان کیا اور فیس بک کے ذریعے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ سوڈان کے آس پاس فوجی دستوں کے ساتھ کوئی جھڑپیں نہیں ہوئیں۔
سوڈان کے سرکاری ٹیلی ویژن کی نشریات اتوار کی سہ پہرسے روک دی گئی تھیں۔ ٹی وی کے عملے کا کہناہے کہ اس اقدام کا مقصد فوج کے خلاف لڑنے والی سریع الحرکت فورسز کے لیے کسی بھی قسم کے پروپیگنڈا مواد کی نشریات کو روکنا تھا۔
سریع الحرکت فوسز’آر ایس ایف‘ نے کہا ہے کہ اس نے سرکاری ٹیلی ویژن اور دیگر اسٹریٹجک تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا۔
سرکاری میڈیا کے ملازمین جنہوں نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا نے بتایا کہ حکام نے RSF کے ام درمان میں سوڈان ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی مرکزی عمارت میں داخل ہونے کے بعد نشریاتی سگنل کاٹ دیے اور معاون مواد نشر کرنے کے لیے ریڈیو نیٹ ورکس کا استعمال کیا۔
سرکاری ریڈیو اسٹیشنوں سے نشریات بھی منقطع کر دی گئیں
سوموار کی صبح سویرے خرطوم میں مسلح افواج کی جنرل کمان کے آس پاس پرتشدد جھڑپیں اور فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ گذشتہ ہفتے کے روز لڑائی شروع ہونے کے بعد سے مسلسل تیسرے دن بھی خرطوم کے بیشتر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
’’العربیہ" اور "الحدث" کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سوڈانی جنگی طیاروں نے دارالحکومت خرطوم کے اوپر سے پروازیں کیں جب کہ دارالحکومت کے جنوب مغرب میں واقع ہوائی اڈے کے آس پاس کے علاقے کو ایک زوردار دھماکے سے ہلا کر رکھ دیا گیا۔ الشجرہ کے علاقے میں آرمرڈ کور کے ہیڈ کوارٹر کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ سوڈانی ڈاکٹروں کی سنڈیکیٹ کے مطابق جھڑپوں کے شروع ہونے کے بعد سے عام شہریوں میں مرنے والوں کی تعداد 97 ہو گئی ہے۔
-
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی سوڈان میں متحارب فریقوں سے لڑائی روکنے کی اپیل
بیرونی دنیا کی تشویش کی قدر کرتے ہیں لیکن موجودہ صورت حال اندرونی معاملہ ہے: ...
بين الاقوامى -
سوڈانی وزیرکو صدمہ؛گھر پرگرنیڈ حملے میں خاندان کے 2 افراد اور 2 محافظوں کی ہلاکت
سوڈان میں جاری حالیہ پرتشدد واقعات میں وزیر معدنیات محمد بشیرعبداللہ ابونمو نے ...
بين الاقوامى -
سوڈان میں تنازع کیسے شروع ہوا، معاملہ کس طرف جائے گا؟
عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈانی فوج اور محمد حمدان دقلو کی زیر قیادت سریع ...
ایڈیٹر کی پسند -
سوڈانی جھڑپوں میں اب تک کم از کم 97 عام شہری مارے جا چکے: ڈاکٹرز یونین
خرطوم کے بشائر یونیورسٹی ہسپتال میں ایک شیل آگرا، مریضوں اور طبی عملے خوف و ...
بين الاقوامى -
سوڈان میں لڑائی میں عالمی خوراک پروگرام کے تین ملازمین ہلاک
اقوام متحدہ نے سوڈان میں متحارب فورسز کے درمیان لڑائی میں عالمی خوراک پروگرام ...
بين الاقوامى -
سعودی وزیرخارجہ کاسوڈان کے جنرل برہان اور آرایس ایف کےکمانڈرکوفون،کشیدگی روکنے پرزور
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوار کی صبح سوڈان کے فوجی سربراہ ...
بين الاقوامى