ایل نینو کی واپسی: دنیا کو 2023 میں ریکارڈ گرمی کا سامنا ہوسکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور موسمی رجحان ایل نینو کی متوقع واپسی کی وجہ سے دنیا میں گرمی میں اضافہ ہوسکتا اور 2023 یا 2024 میں اوسط درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو سکتے ہیں۔

موسمیاتی ماڈل تجویز کرتے ہیں کہ بحرالکاہل میں موسمیاتی طرز عمل ’’لانینا‘‘ کے تین سال بعد اس سال کے آخر میں موسمی رجحان ’’ایل نینو‘‘ کی واپسی ہوسکتی ہے۔ ’’ لانینا‘‘ عام طور پر عالمی درجہ حرارت کو قدرے کم کرتا ہے اور اس کے برعکس ’’ ایل نینو‘‘ اوسط درجہ حرارت بڑھا کر گرمی لاتا ہے۔

ایل نینو کے دوران خط استوا کے ساتھ مغرب سے چلنے والی ہوائیں سست ہو جاتی ہیں اور گرم پانی مشرق کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے جس سے سطح سمندر کا گرم درجہ حرارت پیدا ہوجاتا ہے۔

یورپی یونین کے ’’کوپر نیکس کلائیمیٹ چینج سروس‘‘ کے ڈائریکٹر کارلو بوونٹیمپو نے بتایا ہے کہ ایل نینو عام طور پر عالمی سطح پر ریکارڈ توڑ درجہ حرارت سے وابستہ ہے۔ ایل نینو 2023 یا 2024 میں واپس آتا ہے یا نہیں یہ حتمی طور پر معلوم نہیں ہے تاہم میرے خیال میں ایل نینو کے آنے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

بوونٹیمپو نے مزید کہا کہ آب و ہوا کے ماڈل موسم گرما کے آخر میں ایل نینو کی حالت میں واپسی اور سال کے آخر تک ایک مضبوط ال نینو کی نشوونما کا امکان بتا رہے ہیں۔

دنیا کے موسموں کے مرتب ریکارڈ کے مطابق اب تک کا دنیا کا گرم ترین سال 2016 رہا ہے جو ایک مضبوط ایل نینو کے ساتھ ساتھ آیا تھا ۔ تاہم یاد رہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے بغیر کسی ایل نینو کے بھی متعدد سالوں میں انتہائی درجہ حرارت کو ظاہر کیا ہے۔

گزشتہ آٹھ سالہ ریکارڈ پر دنیا کے آٹھ گرم ترین سال تھے۔ یہ لگاتار گرمی کے سال گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے چلنے والے طویل مدتی گرمی کے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

امپیریل کالج لندن کے گرانٹھم انسٹی ٹیوٹ کے سینئر لیکچرر فریڈریک اوٹو نے کہا کہ ایل نینو ایندھن سے چلنے والا درجہ حرارت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ دنیا میں پہلے کی گرمی کی لہر جاری ہے اور ایل نینو سے دنیا کو شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی اور جنگل کی آگ کے خطرے کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔

اوٹو نے مزید کہا کہ اگر ایل نینو ترقی کرتا ہے تو 2023 ایسا سال ہوسکتا ہے جو 2016 کی گرمی کے ریکارڈ بھی توڑ دے گا۔ انہوں نے کہا دنیا میں مسلسل گرمی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی وجہ انسانوں کی جانب سے فوسل فیولز کو جلانا بھی ہے۔

سائنسدانوں نے جمعرات کو ایک رپورٹ شائع کی جس میں گزشتہ سال کی آب و ہوا کی انتہاؤں کا اندازہ لگایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ پانچواں گرم ترین سال تھا۔

ریکارڈ تاریخ کے مطابق یورپ نے 2022 میں اپنے گرم ترین موسم گرما کا تجربہ کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی شدید بارشوں نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب پیدا کیے۔ فروری میں انٹارکٹک سمندری برف کی سطح ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کا اوسط عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اب 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں