لیبیا میں ایک مسلح ملیشیا کے ہیڈ کوارٹرز کے اندر افریقی تارکین وطن نے لیبائی نوجوانوں کے ایک گروپ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ے۔ تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر ملک بھر میں لوگ مشتعل ہوگئے۔ جمعرات کی صبح مغربی لیبیا کے شہر زاویہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایک افریقی گروپ کے وحشیانہ تشدد، مار پیٹ اور کوڑے مارنے کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا تھا۔ ویڈیو کے مناظر دیکھ کر زاویہ شہر کے لوگوں میں بڑے پیمانے پر اشتعال پھیل گیا۔
ویڈیو کلپ میں لیبیا کے نوجوانوں کے ایک گروپ کو شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تشدد، بدتمیزی اور بدترین الفاظ کے ساتھ توہین کی جارہی ہے۔ بعد میں افریقی بولی بولنے والے افراد نے لیبی گروپ کے افراد کے ہاتھوں پر ہتھکڑیاں لگا کر ان کے کپڑے اتار دیے ۔ ان کو چھت سے بھی لٹکایا گیا۔ زاویہ شہر میں مسلح ملیشیا بظاہر لیبیا کے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ تاہم اس گھناؤنے اقدام سے ان کا مقصد واضح نہیں تھا۔
ورد لنا من خلال عملنا في مجال الرصد المجتمعي
— Iraqi Women Rights (@iwro_org) April 26, 2023
ان القاصر التي تدعى ( رانيا محمد سامي )،البالغة من العمر ١٧ سنة من بغداد من ابوين منفصلين
الضحية رانية تقطن مع والدها دون اخوتها الأخرين الذين يتم علاجهم في دولة أخرى بسبب المرض
وصل لنا مقطع فيديوا مصور من قبل عائلتها وهي… pic.twitter.com/vCPG9quW4Q
ویڈیو کے پھیلنے کے بعد زاویہ شہر کے درجنوں افراد نے مسلح ملیشیا کے بڑھتے کنٹرول اور تسلط کے خلاف اور علاقے میں جرائم کی بڑھتی تعداد کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے سکیورٹی کنٹرول کرنے کے مطالبہ پر مبنی نعرہ بازی کی۔ مظاہرین نے کئی سڑکیں بلاک کردی۔ سڑکوں کو بلاک کرنے سے شہر میں تعلیمی اداروں کو بھی بند کردیا گیا تھا۔
زیر گردش کلپس نے سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کے عدم اطمینان کو بھی جنم دیا، جیسا کہ بلاگر نادیہ نے لکھا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ کا پھیلنا مغربی لیبیا کے شہر زاویہ سے لیبیا کے شہریوں پر تشدد کو دکھا رہا اور غیر قانونی تارکین وطن کی جانب سے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی تصدیق کر رہا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی حکام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ لیبیا کی سرزمین سے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے کارروائی کریں۔