سوڈان:خرطوم میں جنگ بندی کے وعدوں کے باوجود فضائی حملوں کی گھن گرج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں جنگ بندی کے وعدوں کے باوجود بدھ کو فضائی حملوں کی گھن گرج سنائی دی ہےجبکہ متحارب دھڑوں نے جمعرات سے نئی سات روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔اگر اس پرعمل درآمد کیا جاتا ہے تواس سے بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اس سے قبل سوڈانی فوج اورنیم فوجی دستوں کے درمیان 24 سے 72 گھنٹے تک جنگ بندی کے سمجھوتے ہوئے تھے لیکن ان میں سے کسی پربھی مکمل طورپرعمل نہیں کیا گیا۔

جنوبی سوڈان کی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز اطلاع دی تھی کہ اس کے صدرسلفاکیر کی ثالثی کے نتیجے میں فریقین نے جمعرات سے 11 مئی تک ایک ہفتے کی جنگ بندی اورامن مذاکرات کے لیے سفیروں کے ناموں پراتفاق کیا ہے۔موجودہ جنگ بندی آج بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آرمی چیف جنرل عبدالفتاح البرہان اور نیم فوجی دستے سریع الحرکت فورسز(آر ایس ایف) کے کمانڈرجنرل محمد حمدان دقلو نئی جنگ بندی پرعمل درآمد کے لیے کس طرح آگے بڑھیں گے۔

فوج کے لڑاکا طیارے دارالحکومت کے رہائشی علاقوں میں آر ایس ایف یونٹوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے بھی خرطوم میں فضائی بمباری کی اطلاع دی ہے۔

یہ تنازع سوڈان کے مغربی علاقے دارفورمیں بھی پھیل گیا ہے جہاں آر ایس ایف قبائلی ملیشیا سے ابھری تھی اور اس کے جنگجوؤں نے 20 سال پرانی وحشیانہ خانہ جنگی میں باغیوں کو کچلنے کے لیے سرکاری افواج کے شانہ بشانہ جنگ لڑی تھی۔

فوج اور آر ایس ایف کے کمانڈرنے پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے اور فی الوقت کوئی بھی فریق فوری فتح حاصل کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتا ہے۔براعظم افریقاکے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک خرطوم میں لڑائی اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اوراس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوڈان کی وزارت صحت نے منگل کے روزبتایاکہ لڑائی میں 550 افراد ہلاک اور 4،926 زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ مارٹن گریفتھس سوڈان کے عوام کے ساتھ اپنے عزم کا اعادہ کرنے کے لیے پورٹ سوڈان پہنچے۔ان کے ترجمان نے کہا کہ محفوظ راستے کی ضمانت کے ذریعے انسانی امداد کی رسائی کو بہتر بنانا ان کی ترجیح ہوگی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس تنازع نےایک انسانی بحران پیدا کردیا ہے اورقریباً ایک لاکھ افراد خوراک یا پانی کی کمی کے ساتھ ہمسایہ ممالک کی طرف راہ فراراختیارکرنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔

نئی لڑائی کے بعد سے سوڈان میں غیرملکی امداد کی ترسیل روک دی گئی ہے جبکہ اس ملک کی قریباًایک تہائی آبادی پہلے ہی بیرونی انسانی امداد پر انحصار کرتی ہے۔ سوڈان کے غریب ہمسایہ ممالک پناہ گزینوں کی آمد سے نبرد آزما ہیں جس کے نتیجے میں ایک بڑی تباہی جنم لے سکتی ہے۔

غیرملکی حکومتیں سوڈان سے اپنے شہریوں کے انخلا کی کارروائیاں بھی ختم کر رہی ہیں۔فضائی اور بحری ذرائع سے ہزاروں غیرملکی شہریوں کوسوڈان سے نکال کران کے آبائی ممالک کو بھیج دیا گیاہےبرطانیہ نے کہا ہے کہ اس کی آخری پرواز بدھ کو بحیرہ احمر پر واقع پورٹ سوڈان سے روانہ ہوگی اور باقی ماندہ برطانوی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں