بھارت کے شہرامرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل کے آس پاس کے علاقے میں 36 گھنٹے میں دوسرادھماکا ہوا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
پولیس کاکہنا ہے کہ اس دھماکے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ریاست پنجاب کے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس گورو یادونے کہاکہ دہشت گردی کے زاویے سے انکار نہیں کیا گیا ہے اورابتدائی تحقیقات سے پتاچلتا ہے کہ ایک خام آلہ استعمال کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ’’دھماکااس وقت ہوا جب ایک راہگیر نے غلطی سے دھاگا کھینچ لیا۔پھرکنٹینر نیچے گر گیا اور وہ پھٹ گیا۔
گولڈن ٹیمپل دنیا بھرکے سکھوں کے لیے قابل احترام ہے لیکن ماضی میں یہ تشدد کامقام رہا ہے، خاص طور پرجب 1984 میں بھارتی اسپیشل فورسز نے سکھ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے اس پر دھاوا بول دیا تھا۔
ہفتے کے روزاسی جگہ ایک اوردھماکا ہوا تھا،اس سے عمارت میں کئی کھڑکیوں میں دراڑیں پڑگئیں اور یہ وہ دن تھا جب قریباً دولاکھ افراد عام طور پر اس مقام پرآتے ہیں۔
مارچ میں پنجاب میں پولیس نے ایک سکھ علاحدگی پسند کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پرتلاش شروع کی تھی۔اس کے خلاف بھارت کے تارکینِ وطن نے اپنے سفارت خانوں کے باہراحتجاج کیاتھا اورتوڑ پھوڑشروع کی تھی۔
شمالی ریاست بھارت میں ہزاروں افسروں کو تعینات کیا گیا تھا اور 30 سالہ امرت پال سنگھ کی تلاش کی کوشش میں کئی دنوں تک موبائل انٹرنیٹ بند رہا تھا۔امرت پال سنگھ نےخالصتان کے نام سے ایک علاحدہ سکھ وطن کے مطالبے پرشہرت حاصل کی تھی۔سکھوں کی خالصتان کی جدوجہد نے 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں بھارت میں مہلک تشدد کو جنم دیاتھا۔