مستقل جنگ بندی کے لیے فوج اور آر ایس ایف کے درمیان طویل مذاکرات درکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی شہر جدہ میں ایک ہفتے کے دوران ہونے والی بات چیت کے بعد سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز نے ابتدائی اصولوں کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے دوران انہوں نے شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کا عہد کیا۔ بات چیت کے دوسرے دور میں مختصر مدت یعنی دس دن کی جنگ بندی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

تاہم سوڈانی قوم اور دنیا کی نظریں اب بھی مستقل جنگ بندی پر لگی ہوئی ہیں۔ اس بات کی تصدیق سعودی وزارت خارجہ نے آج جمعہ کو اپنے ایک بیان میں بھی کی ہے کہ مذاکرات کے اگلے مراحل میں سول فورسز کو شامل کیا جائے گا تاکہ کسی حل اور مستقل جنگ بندی تک پہنچا جا سکے۔

اسی تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ عارضی جنگ بندی سے دشمنی کے مستقل خاتمے کی طرف منتقلی ایک طویل عمل ہو گا۔ خاص طور پر اس لیے بھی کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان ابھی تک کچھ چیزوں میں نقطہ نظر کے اختلاف کی گہری خلیج باقی ہے۔

ریاض اور واشنگٹن نے سوڈان کے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کو سپانسر کیا ہے اور اب دونوں کو امید ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان آج کے اعلامیہ پر دستخط سے امن کے قیام کی رفتار تیز ہو جائے گی۔ توقع کی جارہی ہے کہ اگلے مرحلے میں سویلین گروپس بھی ان مذاکرات میں شامل ہو جائیں گے۔

سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ کے درمیان جدہ معاہدے کا ایک منظر
سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ کے درمیان جدہ معاہدے کا ایک منظر

واضح رہے کہ آج صبح جس اعلامیے پر دستخط ہوئے اس کا مقصد انسانی امداد کے بہاؤ کو بہتر بنانا اور پانی اور بجلی کی خدمات کو بحال کرنا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہسپتالوں اور کلینکوں سے فوجی دستوں کے انخلاء اور جاں بحق افراد کی مناسب تدفین کے انتظامات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں