روس اور یوکرین

یوکرینی صدر زیلنسکی کی عرب لیگ سمٹ میں شرکت کے لیے سعودی عرب کے شہر جدہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی 32 ویں عرب لیگ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے ہیں۔

زیلنسکی جمعہ کے روز فرانس کے سرکاری طیارے میں پولینڈ سے جدہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ عرب لیگ سربراہی اجلاس میں ان کی بطور مہمان خصوصی شرکت "روس یوکرین بحران کے حل کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا حصہ ہے۔ "

یوکرین کے صدر نے سعودی عرب پہنچنے کے بعد کہا کہ وہ سعودی عرب کے اپنے پہلے دورے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیحات میں یوکرین کے امن فارمولے پر بات کرنا ہے جس میں ان کے ملک کے خلاف روس کی جنگ کے خاتمے، یوکرین میں مسلم کمیونٹی کے تحفظ اور روس کی طرف سے الحاق شدہ کریمیا سے سیاسی قیدیوں کی واپسی پر بات کی جائے گی۔

روس کی جانب سے گزشتہ سال یوکرین کے خلاف "خصوصی فوجی آپریشن" شروع کرنے کے بعد سے سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ریاستوں ںے غیر جانبدارانہ موقف اپنا رکھا ہے اگرچہ مغربی طاقتوں کی جانب سے روس، جو کہ اوپیک پلس کا رکن ہے، کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ان ریاستوں پر کافی دباؤ ہے۔

سعودی عرب نے نے بار بار کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے اور پرامن حل تک پہنچنے کے لیے متحارب فریقوں کے درمیان ثالثی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

رواں سال فروری میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کئیف کے دورے کے دوران زیلنسکی سے ملاقات کی تھی۔

ملاقات کے دوران، انہوں نے ایک معاہدے اور مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جس کے تحت یوکرین کو 400 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کی جانی تھی۔

گزشتہ سال، سعودی عرب نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں، مختلف ملکوں کے 10 جنگی قیدیوں کی رہائی میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب یوکرین کے خلاف روس کی جنگ نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ کے طور پر سعودی عرب کا کردار واشنگٹن اور ماسکو دونوں کے لیے اہمیت اختیار کر گیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں