شام کے صدر بشار الاسد کا جمعے کو عرب سربراہی اجلاس میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان ان تمام سربراہان مملکت کے سامنے ان سے گلے ملے جو برسوں سے ان سے دور تھے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شام میں 12سال کی معطلی کے بعد جدہ میں ہونے والی ملاقات میں شامی صدر اسد سے مصافحہ کیا۔ ملاقات کے آغاز سے قبل سرکاری تصویر کھینچنے سے پہلے ولی عہد نے بشار الاسد کو گلے لگا لیا۔
شام کی خانہ جنگی کا رخ موڑنے کے بعد عرب ریاستوں کی جانب سے طویل عرصے سے بے دخل کیے گئے بشار الاسد، یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کے ہمراہ عرب سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے، جو روسی حملہ آوروں کے خلاف کیف کی جنگ کے لیے حمایت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
عرب لیگ میں شام کی دوبارہ شمولیت ایک مضبوط اشارہ ہے کہ اسد کی ایک دہائی سے زیادہ کی تنہائی ختم ہو رہی ہے۔ عرب ممالک کے اس پالیسی شفٹ کی امریکا اور دیگر مغربی طاقتیں مخالفت کر رہی ہیں۔
عالمی تیل کے پاور ہاؤس سعودی عرب، جو کبھی امریکہ سے بہت زیادہ متاثر تھا، نے گزشتہ سال عرب دنیا میں سفارتی قیادت سنبھالی ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات دوبارہ استوار کیے ہیں، شام کو واپسی پر خوش آمدید کہا ہے، اور سوڈان کے تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔
بشار الاسد کے ساتھ عرب تعلقات میں اس وقت تیزی آئی تھی جب مارچ میں چین کی ثالثی میں ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کیے اور دونوں ممالک نے خطے کے دیرینہ تنازعات حل کرنے پر اتفاق کیا۔