ٹک ٹاک نے امریکی ریاست مونٹانا کی جانب سے 2024 کے آغاز سے اس کے پلیٹ فارم پر پابندی کے قانون کی درخواست کو روکنے کے لیے پیر کو امریکا کی ایک وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔
مونٹانا پہلی امریکی ریاست بن ہے جس نے چینی ملکیت والے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم پر بڑی پابندی عائد کی۔
"ٹک ٹاک" کا موقف ہے کہ یہ بے مثال پابندی آئین کی طرف سے ضمانت دی گئی اظہار رائے کی آزادی سے متصادم ہے۔
'بے بنیاد قیاس آرائیاں'
مقدمے کے متن میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ "ریاست نے محض بے بنیاد قیاس آرائیوں پر مبنی ان غیر معمولی اور بے مثال اقدامات کو نافذ کیا ہے۔"
پلیٹ فارم کے ایک ترجمان نے بھی اے ایف پی کو تصدیق کی اور کہا کہ ''ہمیں یقین ہے کہ ہمارا قانونی چیلنج بہت زیادہ مضبوط مثالوں اور حقائق کی بنیاد پر غالب رہے گا۔"
ماہرین نے خبردار کردیا
امریکی ریاست نے گذشتہ ہفتے یہ قانون منظور کیا ہے جس کے تحت یکم جنوری 2024 سے ریاست میں "ٹک ٹاک" پر پابندی عائد کر دی جائے گی، جس کو دوسری ریاستیں بھی اپنا سکتی ہیں۔
تاہم، میدان میں بہت سے ماہرین نے خبردار کیا کہ قانونی چارہ جوئی اور تکنیکی رکاوٹیں قانون کے نفاذ کو مشکل بنا سکتی ہیں۔
شمال مغربی امریکی ریاست کے ریپبلکن گورنر گریگ گیانفورٹ نے 17 مئی کو اس قانون کی توثیق کرتے ہوئے اپنے اقدام کو "چینی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے مونٹانا کے ذاتی اور نجی ڈیٹا کی حفاظت" قرار دیا۔
صارفین کا دعوی
گذشتہ ہفتے، 5 صارفین نے ایک وفاقی عدالت کے سامنے ایک مقدمہ دائر کیا، جن کے مطابق پابندی ان کے اظہار رائے کی آزادی میں مداخلت کرتی ہے۔
اس مقدمے میں، اور "ٹک ٹاک" کے دائر کردہ مقدمے میں، مدعیان نے ریاست مونٹانا پر قومی سلامتی کے اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کا الزام بھی لگایا ہے جو کہ خصوصی طور پر امریکی وفاقی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں۔
"ٹک ٹاک" کے صارفین نے اپنے مقدمے میں کہا کہ " ریاست مونٹانا کو اپنے باشندوں کو ٹک ٹاک کو دیکھنے یا اس پر پوسٹ کرنے سے روکنے کا اسی طرح کوئی حق نہیں ہے، جیسے اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ دی وال اسٹریٹ جرنل کے مالک کی وجہ سے یا وہ خیالات جو یہ شائع کرتا ہے کی وجہ سے (اخبار) پر پابندی لگائے۔
یومیہ 10,000 ڈالر جرمانہ
نیا قانون الیکٹرانک ایپلیکیشن اسٹورز (ایپل اور گوگل ڈیوائسز کے ذریعے) کو حکم دیتا ہے کہ وہ یکم جنوری 2024 سے مونٹانا میں ایپ کو ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب نہ کریں۔
خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو خلاف ورزی پر 10,000 ڈالر جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، لیکن صارفین کو جرمانہ نہیں کیا جائے گا۔
تکنیکی رکاوٹوں کے علاوہ، نئے قانون میں بہت سے عناصر شامل ہیں جن کی قانونی حیثیت کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
جاسوسی کے الزامات
"ٹک ٹاک" چینی بائٹ ڈانس گروپ کی ملکیتی کمپنی ہے۔ اسے امریکا میں 150 ملین لوگ استعمال کرتے ہیں۔
امریکی کانگریس کے بہت سے اراکین اس پلیٹ فارم پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ چینی حکومت کو صارفین کا ڈیٹا چرانے اور جاسوسی کرنے کے قابل بناتا ہے، جبکہ کمپنی اور ذمہ داران اس کی تردید کرتے ہیں۔
ٹک ٹاک پر پابندی کے فیصلے امریکہ میں بہت سی تنظیموں اور وفاقی ایجنسیوں اور بی بی سی سمیت یورپی کمیشن نے جاری کیے ہیں۔
-
ٹک ٹاک چیلنج نے لڑکے کی زندگی لے لی، 14 اینٹی ہسٹامائنز گولیاں نگل گیا
امریکہ میں ریاست اوہائیو میں ٹک ٹاک چیلنج نے بچے کی زندگی ختم کر دی۔ 13 سالہ جیکب ...
ایڈیٹر کی پسند -
برطانیہ نے سرکاری اداروں کی ڈیوائسز پر ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی عائد کردی
برطانیہ نے جمعرات کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے سرکاری اداروں کے دفاترمیں استعمال ...
بين الاقوامى -
برطانوی پارلیمان کاتمام پارلیمانی ڈیوائسز پرٹک ٹاک پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ
برطانوی پارلیمان نے سائبرسکیورٹی کی ضرورت کے پیش نظرتمام پارلیمانی آلات اور وسیع ...
بين الاقوامى -
ٹینک میوزم میں بنی ٹک ٹاک ویڈیو پر اردن میں غصہ
فوجی وردیاں پہن کر مرد و خواتین نے طنز و مزاح کے ساتھ تاریخ کا غلط استعمال کیا
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب میں ٹک ٹاک پر قبائلی منافرت کو ہوا دینے والے شخص کے خلاف کارروائی
سعودی عرب میں آڈیو ویژوئل میڈیا کے جنرل کمیشن نے سوشل میڈیا پر مواد بنانے والے ایک ...
مشرق وسطی