امریکا اور سعودی عرب کا سوڈان میں عارضی جنگ بندی معاہدے کی پاسداری پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب اورامریکا نے سوڈان کے متحارب فریقوں پرزوردیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کریں۔ انھوں نے سوڈان میں متحارب فریقوں کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں کی اطلاعات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے اور اس میں متحارب فریقوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔

سعودی عرب اور امریکا نے کہا کہ معاہدے کے نفاذ سے پہلے اور پیر کی شام کے بعد 48 گھنٹوں کے دوران میں سوڈان کا کوئی بھی فریق مکمل طور پر جنگ بندی پر کاربند نہیں رہا ہے۔

اگرچہ خرطوم میں لڑائی حالیہ دنوں کے مقابلے میں کم شدید دکھائی دیتی ہے ، لیکن سہولت کاروں نے دونوں فریقوں کو ان رپورٹس سے آگاہ کیا کہ انھوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں خرطوم اور العبید میں مبیّنہ جارحانہ کارروائیاں، فضائی حملے اور توپ خانے کا استعمال شامل ہے۔

سعودی عرب کے شہر جدہ میں گذشتہ ہفتے سوڈانی فوج اور نیم فوجی ملیشیا سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان قلیل مدتی جنگ بندی اور انسانی انتظامات سے متعلق سات روزہ معاہدے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ ملک میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے سعودی عرب اور امریکا کی قیادت میں تازہ کوشش تھی۔

ان دونوں ممالک کے مشترکہ بیان سے قبل خرطوم کے مکینوں نے منگل کے روز اطلاع دی تھی کہ وہ شہر کے کچھ حصوں میں توپ خانے اور فضا میں جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں سن سکتے ہیں۔

دریں اثناء برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بدھ کے روز یہ بھی اطلاع دی ہے کہ سوڈان کے دارالحکومت کے کچھ حصوں میں رات بھر متحارب دھڑوں کے درمیان جھڑپوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

معاہدے کے مطابق دونوں فریقوں کو ایسی کسی بھی فوجی کارروائی سے گریز کرنا چاہیے جس سے جنگ بندی خطرے میں پڑ جائے۔ انھیں یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی کہ وہ معاہدے کے نفاذ سے قبل 48 گھنٹے کی مدت کے دوران میں اپنے متعلقہ دھڑوں، فوجیوں اور جنگجوؤں کو معاہدے کی تفصیل سے آگاہ کریں اور اس بات کی ضمانت دیں کہ وہ جنگ بندی پر مکمل عمل کریں گے۔

جدہ معاہدے میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیےر رابطہ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس میں سوڈانی فریقوں کے علاوہ سعودی اور امریکی نمائندے بھی شامل ہیں۔توقع ہے کہ کمیٹی سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے ساتھ باقاعدگی سے اور براہ راست رابطے جاری رکھے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جدہ میں جنگ بندی کی نگران اور رابطہ کمیٹی کے نمائندوں نے انسانی امداد کی ترسیل پر تعمیری کام کیا۔انھوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو حل کرنے کے لیے متعلقہ متحارب فریقوں سے رابطہ کرنے کا بھی عہد کیا کیونکہ کمیٹی رپورٹوں کی تصدیق کرنا چاہتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس تنازع سے سوڈانی، سعودی عرب اور امریکا کے بہت سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ فریقین اس معاہدے کے تحت انسانی بنیاد پرعارضی جنگ بندی کے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کریں تاکہ فوری طور پر ضروری انسانی امداد مہیا کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں