صدرپوتین کی طیب ایردوآن کومبارک باد:’فتح آزاد خارجہ پالیسی پرترکوں کے اعتماد کی مظہر‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

روس کے صدر ولادی میر پوتین نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو صدارتی انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد پیش کی ہے اور کہا ہے ان کی انتخابی کامیابی اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ترک عوام ان کی ’آزاد خارجہ پالیسی‘ کی حمایت کرتے ہیں۔

کریملن نے ایردوآن کے نام صدرپوتین کے تہنیتی پیغام میں کہا کہ انتخابات میں کامیابی جمہوریہ ترکیہ کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کے بے لوث کام کا فطری نتیجہ ہے، جو ریاستی خودمختاری کو مضبوط بنانے اور ایک آزاد خارجہ پالیسی چلانے کی آپ کی کوششوں میں ترک عوام کی حمایت کا واضح ثبوت ہے۔

صدرپوتین نے مزید کہا کہ ’’ہم روس اور ترکیہ کے دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی مفاد میں تعاون کے لیے آپ کی ذاتی دل چسپی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

روسی اور ترک صدور نے مختلف جغرافیائی سیاسی مفادات اور مغرب کے ساتھ مختلف درجے کی کش مکش کے باوجود، برسوں سے قریبی تعلقات قائم کیے ہیں اور اس کو فروغ دیا ہے۔ روس میں ولادی میرپوتین اور ترکیہ میں ایردوآن ایک طویل عرصے سے برسر اقتدار ہیں۔ وہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے میں کامیاب رہے ہیں۔

روس اور ترکیہ کے درمیان قریبی تعلقات کے فروغ کو کئی عوامل سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے، دونوں رہ نماؤں کی قیادت کا انداز ایک جیسا ہے جس میں طاقت کی مضبوط مرکزیت، میڈیا پر کنٹرول اور سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن شامل ہے۔اس مشترکہ بنیاد نے انھیں ایک دوسرے کی داخلی پالیسیوں کو سمجھنے اور ان کی حمایت کرنے کی اجازت دی ہے۔

مزید برآں، دونوں ممالک کو مغربی ممالک کی طرف سے تنقید اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے، خاص طور پر ان کی خارجہ پالیسیوں پردباؤ کا سامنا ہے۔ اس مشترکہ تجربے نے صدرپوتین اور ایردوآن کے درمیان یک جہتی کا احساس پیدا کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ مغربی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے اور اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کے تحفظ میں قریبی تعلقات برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔

مزید برآں ، روس اور ترکیہ نے تزویراتی ہم آہنگی خاص طور پر توانائی اور دفاعی تعاون کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔ روس ترکیہ کو قدرتی گیس سمیت توانائی کے وسائل کاایک بڑا مہیا کنندہ ہے۔اس تعاون نے دوطرفہ اقتصادی انحصار کو فروغ دیا ہے اور دوطرفہ تعلقات کومضبوط کیا ہے۔دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں تعاون کیا ہے ، ترکیہ نے نیٹو اور امریکا کے اعتراضات کے باوجود روس سے ایس -400 میزائل دفاعی نظام جیسا جدید فوجی سازوسامان خرید کیا ہے۔اس دفاعی تعاون نے نہ صرف ان کی اقتصادی اور فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے بلکہ ان کے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں