روس اور یوکرین

یورپ میں بڑے انسانی ساختہ ڈیم کی تباہی ؛روس اور یوکرین کی ایک دوسرے پر الزام تراشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس اور یوکرین نے منگل کے روز ایک دوسرے پر جنوبی یوکرین میں واقع ایک بڑے ڈیم کی تباہی کا الزام عاید کیا ہے۔ کیف نے کہا کہ روس ’’یورپ میں دہائیوں کی سب سے بڑی تکنیکی تباہی‘‘کا ذمے دار ہے اور اسے ’’جنگی جرم‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ ماسکو نے یوکرین کو ’’منصوبہ بند دہشت گردی کی کارروائی‘‘کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

روس کے زیر قبضہ یوکرین کے علاقے میں واقع کاخوفکا ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ کا ڈیم منگل کے روز منہدم ہوگیا جس کے نتیجے میں قریبی دیہات زیر آب آگئے ہیں،فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور پینے کے پانی کے ذخائر متاثر ہوئے ہیں۔ دونوں متحارب فریقوں نے سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کارروائیاں شروع کررکھی ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہے ہیں کہ دوسرے فریق نے جان بوجھ کر ڈیم پر حملہ کیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے ڈیم کی تباہی کو روس کا 'جرم' قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی اداروں سے ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’روس کو نوفا کاخوفکا ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ کے ڈھانچے کو دھماکے سے اڑانے کی مجرمانہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے‘‘۔

ڈیم کی تباہی کے بعد نزدیک واقع علاقے زیرآب آگئے ہیں اور وہاں سیلاب کی صورت حال ہے۔
ڈیم کی تباہی کے بعد نزدیک واقع علاقے زیرآب آگئے ہیں اور وہاں سیلاب کی صورت حال ہے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ دمترو کلیبا نے کہا:’’روس نے کاخوفکا ڈیم کو تباہ کر دیا جس سے شاید کئی دہائیوں میں یورپ کی سب سے بڑی تکنیکی تباہی ہوئی ہے اور ہزاروں شہریوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔ یہ ایک گھناؤنا جنگی جرم ہے۔ اکیسویں صدی کے سب سے بڑے دہشت گرد روس کو روکنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اسے یوکرین سے نکال باہر کیا جائے‘‘۔

یوکرین کے ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے وزیر رسلان اسٹریلٹس نے کہا کہ ڈیم کودھماکے سے اڑانے کا مطلب ایک بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی ہے جس کے نتائج پورے یورپ میں محسوس کیے جائیں گے جبکہ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ ڈیم کے ٹوٹنے سے ماحولیاتی تباہی ہوگی۔اس کے اثرات "یوکرین کی سرحدوں سے کہیں آگے جائیں گےاور پورے بحیرہ اسود کے خطے کو متاثر کرے گا‘‘۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ڈیم کی تباہی کو’’یوکرین کی دانستہ تخریب کاری‘‘ قرار دیا ہے جس سے خطے کے ہزاروں مکین متاثر ہوں گے اور اس سے سنگین ماحولیاتی مضمرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

روس نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ یوکرین نے مایوسی کے عالم میں ڈیم پر حملہ کیا ہے کیونکہ اس نے دو دن پہلے بڑے پیمانے پر جارحانہ آپریشن شروع کیا تھا ، لیکن وہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے اپنی کارروائیاں روک دی ہیں۔

روسی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ یوکرین کی حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا اور ایسا کرتے ہوئے اس نے پہلے سے طے شدہ 'دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی' کا ارتکاب کیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے الگ سے بیان میں کہا ہے کہ ’’جو کچھ بھی ہوا وہ خالصتاً سویلین انفراسٹرکچر کے خلاف دہشت گردی کی کارروائی ہے۔ یہ کیف حکومت کی جانب سے نام نہاد جوابی حملے کے حصے کے طور پر فوجی مقاصد کے لیے پہلے سے منصوبہ بند اور دانستہ اقدام تھا۔وزارت نے ڈیم کی تباہی کی مذمت کی اور اسے "بڑے پیمانے پر انسانی اور ماحولیاتی تباہی" قرار دیا۔

اس نے مزید کہا کہ ’’ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین کے حکام کے غیر انسانی نوعیت کے مجرمانہ اقدامات کی مذمت کرے کیونکہ یہ اقدامات علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں