الھول کیمپ سے واپسی کے بعد داعش سے وابستہ خواتین نے کیسے اپنے کاروبار شروع کیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

قبائلی ضمانتوں کے تحت اور شمال مشرقی شام کی خود مختار انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی میں رقہ اور دیر الزور کے شہروں کے شیوخ اور معززین کے ذریعہ اختیار کیے گئے اقدامات کے تحت الھول کیمپ میں رہنے والے ہزاروں شامی خاندان 2019 کے وسط سے اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے ہیں۔

بلاشبہ ان خاندانوں کو داعش کی بدنامی ساتھ لیے روز گار کی تلاش کرنے میں بھی شدید مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

الھول کیمپ سے باہر نکلنے کے بعد
الھول کیمپ سے باہر نکلنے کے بعد

زھرا الجسم اور اس کی پڑوسی فاطمہ العلوی کا تعلق رقہ سے ہے۔ ان دونوں نے شامی ڈیموکریٹک فورسز کے زیر حراست عراقی داعش کے قیدیوں سے شادی کی تھی۔ ان دونوں نے بتایا کہ کس طرح کیمپ چھوڑنے سے پہلے انہوں نے تربیتی کورسز میں شمولیت اختیار کی۔ سلائی اور کڑھائی کا کام سیکھا۔ الھول میں سرگرم انسانی تنظیموں نے اپنے چھوٹے منصوبوں میں سے ایک کے طور پر اس منصوبے کو نافذ کیا تھا۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے داعش کے خاندانوں کی خواتین خاص طور پر شامی خواتین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ وہ خواتین ہوتی ہیں جو کیمپ چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہوتیں ہیں۔ اسی حوالے سے تین بچوں کی ماں زھرا نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ کیمپ سے واپس آنے والوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج شدید معاشی تباہی اور نجی ملازمتوں کے مواقع کی کمی ہوتا ہے۔ ملک میں سنگین حالات درپیش ہیں۔

الھول کیمپ سے باہر نکلنے کے بعد
الھول کیمپ سے باہر نکلنے کے بعد

زھرا نے وضاحت کی کہ سلائی سیکھنے نے اسے ضرورت مند بننے سے بچالی اور اب وہ اپنے گھر سے کام کرتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی پڑوسی فاطمہ کے ساتھ مل کر "معروف جلابیات" بُنتی ہے۔ یہ لباس رقہ کی خواتین میں مقبول ہے۔

داعش کا سوت اور فتنہ

اپنی طرف سے فاطمہ نے بتایا کہ کیمپ چھوڑنے والی خواتین کو درپیش سب سے نمایاں چیلنجز میں ایک یہ ہے کہ انہیں مقامی کمیونٹیز کی طرف سے مسترد کردیا جاتا ہے۔ یہ ردعمل انہیں ایک مرتبہ پھر داعش کے سیلز کی جانب سے بھرتی کے امکان کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ داعشی سیلز کیمپ سے واپس آنے والوں کو مادی ترغیبات فراہم کرنے کی پیش کش میں کوئی ہچکچکاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

ان دونوں خواتین نے کہا کہ انہیں تنظیم داعش کے سلیپنگ سیلز سے خطرات کا سامنا ہے جو خواتین کو اس حقیقت کو چھپانے پر اکساتا ہے کہ وہ پہلے مارے جانے کے خوف سے الھول میں تھیں۔

الھول کیمپ سے باہر نکلنے کے بعد
الھول کیمپ سے باہر نکلنے کے بعد

فاطمہ نے کہا کہ وہ الھول کیمپ سے واپس آنے والوں کو ضم کرنے اور ان کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کو حل کرنے کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے پیش کیے جانے والے چھوٹے منصوبوں کے پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں۔ یہ پراجیکٹس الھول کیمپ سے واپس آنے والوں کو لیبر مارکیٹ اور معاشرے میں تیزی سے ضم ہونے میں مدد کرتے ہیں۔

دوسری طرف الھول کیمپ سے 2020 میں واپس آنے والی آیۃ العبد اللہ نے بتایا کہ مجھے رقہ کے ایک معزز شخص کے ذریعے رہا کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں رہائش، دوائیوں کو محفوظ بنانے اور سکولوں میں شناختی کاغذات کی کمی کے باعث بچوں کو داخل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آیۃ نے کہا اس لیے میں رقہ میں سول تنظیموں کی طرف سے الھول کیمپ سے واپس آنے والوں کی مدد کے لیے نفسیاتی اور اقتصادی پروگراموں میں شامل ہوگئی۔

آیۃ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ تنظیم ’’ خطوہ بہ خطوہ ‘‘ نے ان کی رقہ آمد کے آغاز میں اس سے رابطہ کیا اور اسے اپنے اور اس کے بچوں کے لیے ضروری مدد کی پیشکش کی۔ نفسیاتی اور سماجی مدد بھی فراہم کی گئی۔ کم معیار زندگی اور مقامی کمیونٹی کی جانب سے مسترد ہونے کے بعد انہیں ذریعہ روزگار فراہم کیا گیا۔

انہوں نے بتایا میں اپنے گھر سے کپڑوں اور الیکٹرک ڈیوائسز کی الیکٹرانک پروموشن کے ذریعے کام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ کمرشل سٹورز پر میں جو بھی چیز فروخت کرتی ہوں اس کی قیمت پر مجھے ایک فیصد آمدن حاصل ہوتی ہے۔

ایک اور خاتون ام البراء نے دو سال قبل الھول چھوڑا تھا۔ رقہ میں واپسی کے بعد وہ اپنے گھر والوں اور اپنے خاندان کی بیگانگی کے باوجود اپنے لئے اور اپنے جیسی دوسری خواتین کے لیے نوکری تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

الھول کیمپ سے باہر نکلنے کے بعد
الھول کیمپ سے باہر نکلنے کے بعد

انہوں نے تنظیموں کی طرف سے الھول سے نئے آنے والوں کی مدد کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی حوالہ دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ان ورکشاپس میں شرکت کی خواہشمند تھیں جن کی قیادت تنظیم ’’ خطوہ بہ خطوہ‘‘ کے رضاکار اور کارکن کرتے تھے۔ ان کورسز میں سلائی، بیوٹی، ہیئر ڈریسنگ اور دیگر کاموں کے شعبوں میں خواتین کو تربیت فراہم کی جاتی تھی۔

الہول کیمپ سے نکلنے والی خواتین مقامی کمیونٹی کے دیگر افراد کے ساتھ انتظامی اور شہری تربیت اور نفسیاتی معاونت کے سیشن حاصل کرتی ہیں۔ یہ کورسز ان کی نفسیاتی تندرستی کو بڑھانے کے علاوہ ان کے درمیان سماجی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی معاون ہیں۔ اس کے بعد چھوٹے پراجیکٹس کھولنے کا مرحلہ آجاتا ہے۔

آکسیجن یوتھ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر "بشار الکراف" نے واپس آنے والے خاندانوں کو درپیش بہت سی رکاوٹیں دیکھی ہیں جن میں کاغذات اور ذاتی دستاویزات کا حصول بھی شامل ہے۔ ان افراد کو روٹی، ایندھن اور دستیاب خدمات تک رسائی میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔ صحت کے مسائل الگ سے ہوتے ہیں۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دیے گئے خصوصی بیانات میں انھوں نے وضاحت کی کہ رقہ تنازعات کے حل کی کمیٹی ان خاندانوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کمیٹی میں مقامی کمیونٹی کے فعال اور بااثر افراد، شہری اور انسانی کاموں کے لیے سرگرم افراد، وکلاء، اساتذہ، ڈاکٹرز، مقامی حکام کے نمائندے اور قبائلی شامل ہیں۔

انہوں نے ان خاندانوں کی معاشی ضروریات کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا اور کہا جن افراد کا کوئی پیشہ یا روٹی کمانے والا نہیں ہے اور انہیں بڑی معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ الھول سے واپس آنے والوں کے امور سے وابستہ تنظیموں کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کیمپ چھوڑ کر رقہ شہر جانے والے خاندانوں کی تعداد 900 سے زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں