امریکی غوطہ خور جس نے 4 دن پہلے آبدوز کے مسافروں کی ہلاکت کی پیشین گوئی کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بحر اوقیانوس کے پانیوں کے نیچے 3,800 میٹر کی گہرائی میں ڈوبے ہوئے "ٹائٹینک" کے ملبے کو دیکھنے کے لیے بد قسمت آبدوز ٹائٹن پر سوار پانچ مسافروں نے گذشتہ اتوار کو جب اپنا سیاحتی سفر شروع کیا تو ایک گھنٹہ 45 منٹ بعد ان کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

ان کی تلاش کے لیے دنیا کے بیشتر حصوں میں دستیاب ہر ذرائع سےمدد لی گئی۔میڈیا پر اس حوالے سے ماہرین مختلف آراء اور خدشات ظاہر کرتے رہے۔ان سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسافروں کو سب سے زیادہ خطرہ یہ ہے کہ ان کے پاس 96 گھنٹے کے لیے کافی آکسیجن ہے۔

تاہم ایک ماہر نے اس بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کیے۔ گذشتہ پیر کو یعنی آبدوز کے سفر کے ایک دن بعد،امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فاکس نیوز کے ساتھ دیے گئے انٹرویو میں امریکی غوطہ خور مائیکل ہیرس، جو آبدوز میں سوار تین مسافروں کے دوست تھے، نے اس بارے میں گھمیبر خدشات کا اظہار کیا جسے العربیہ نے اپنی شائع کردہ ایک رپورٹ میں بھی بیان کیا تھا۔

سب سے اہم بات جو اس انٹرویو میں بیان کی گئی تھی، سے ایک اقتباس ذیل میں دکھائی گئی ایک ویڈیو میں دیا گیا ہے۔

ویڈیو کے 1.22 منٹ کے بعد وہ پر اعتماد انداز سے یہ دعوی کر کے دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں کہ "ٹائٹن" آبدوز ممکنہ طور پر 3,200 میٹر کی گہرائی میں بیرونی دباؤ کی وجہ سے پھٹنے کے بعد غیر معمولی گہرائی میں ڈوب گئی ہوگی ہے۔ اور مسافر ناگہانی موت کا شکار ہوگئے ہیں۔

ان کے اندازے کے مطابق چونکہ ملبے تک پہنچنے کے لیے اڑھائی گھنٹے کا وقت لگتا ہے، یہ حادثہ "ٹائی ٹینک" کی آخری آرام گاہ سے تقریباً 600 کلومیٹر دورپیش آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ " آبدوز نے دس ہزار فٹ کی گہرائی سے زیادہ فاصلہ طے کیا اور اس مقام پر پانی کا دباؤ بہت زیادہ ہوسکتا ہے۔"

انہوں نے اس وقت اسے "ایمپلوژن"[دھماکے] کا نام دیا ، جو ایک میکینکل عمل ہے۔ یہ عمل کسی بھی چیز کے اندر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ چیز شدید بیرونی دباؤ کا شکار ہو۔

اسے انگریزی میں "ایمپلوژن" کہا جاتا ہے جو "ایکسپوژن" کا الٹ عمل ہے۔ چونکہ ایکسپلوژن میں دھماکہ کسی چیز کے اندرہوتا ہے اور اس چیز کو باہر کی طرف پھاڑتے ہوئےاس کے حصے بخرے کرتا ہے۔ مگر ’ایمپلوژن‘ کسی چیز میں بیرونی دباؤ کی وجہ سے اس کے اندر ہونے والا ایسا دھماکہ ہے جس میں دھماکے سے متاثرہ چیز باہر نہیں پھٹی بلکہ اس کا بیرونی حصہ اندر دھنس جاتا ہے۔

خلا اور سمندر کے خطرات کا موازنہ

دھماکے کی تصدیق امریکی ایڈمرل جان موگر نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کی۔

انہوں نے کہا کہ "ٹائٹن" کا ملبہ ڈوبے ہوئے "ٹائٹینک" سے تقریباً 1,600 فٹ (487 میٹر) کے فاصلے پر ملا ہے۔ یعنی تقریبا 3.313 میٹر کی گہرائی میں ، ہیرس کے اندازے سے 113 میٹر کے فرق کے ساتھ۔

ویڈیو کے پانچویں منٹ کے بعد، ہم ایڈمرل کو بھی سن سکتے ہیں، جو بتارہے ہیں کہ آبدوز کو تباہ کن امپلوژن یا تباہ کن "دھماکے" کا سامنا کرنا پڑا۔

ہیرس کو امریکی میڈیا میں غوطہ خوری کے ماہر کے طور پر بیان کیا گیا ہے،جو متعدد بار "ٹائٹینک" کے ملبے تک پہنچے ہیں۔

انٹرویو میں، اس نے اپنے خدشےکا اظہار کیا اور کہا کہ "سب سے زیادہ مخالف ماحول ہوتا ہے جس کا آپ تصور کر سکتے ہیں"

اپنے دعوے کی تصدیق میں انہوں نے کہا کہ پانی کا وزن ان گہرائیوں میں شدید دباؤ ڈالتا ہے، جس کی مقدار "ٹائٹن" کے ہر مربع انچ پر 6,000 پاؤنڈ تک ہوسکتی ہے۔ چونکہ آبدوز کاربن ریشوں اور ٹائٹینیم سے بنا، اس لیے ممکنہ طور پر اس کی ساخت میں شگاف پڑ گیا ہے۔

انٹرویو میں ہیرس نے سمندر کی گہرائیوں کے ماحول کا بیرونی خلا سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ 6,000 پاؤنڈ یا 2,721 کلو فی مربع انچ کے دباؤ کے بارے میں بات کرنے کا مطلب ہے کہ "یہ ایک خطرناک ماحول ہے۔"

انہوں نے کہا کہ سمندر کی اس حد تک گہرائی میں غوطہ لگانے والوں سے زیادہ لوگ خلاء کا سفر کر چکے ہیں، لیکن جو نقصان انہیں پہنچا وہ غوطہ خوروں سے کم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں