اسرائیل نے بستیوں میں 5000 نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی

نئے رہائشی یونٹس کی منظوری سے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں میں ہزاروں نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ صہیونی حکومت کے اس اقدام سے اسرائیل کی امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے کشیدہ تعلقات مزید خراب کرنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

اسرائیلی قرارداد میں مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی آبادکاری کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی امریکی تنقید کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس نئے اقدام سے اسرائیل کی فلسطینیوں کے ساتھ ایک ایسے وقت میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جب یہ پہلے سے ہی عروج پر تھی۔

کئی اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ وزارت دفاع کی منصوبہ بندی کمیٹی جو یہودی بستیوں کی تعمیر کی نگرانی کرتی ہے نے بستیوں میں 5 ہزار سے زیادہ نئے مکانات کی منظوری دی ہے۔ یہ یونٹ منصوبہ بندی کے مختلف مراحل میں ہیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی تعمیر کب شروع ہوگی۔

فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری بھی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ 7 لاکھ سے زیادہ اسرائیلی اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں ناجائز طریقے سے قیام پذیر ہیں۔

دسمبر میں آخر میں اقتدار سنبھالنے والی اسرائیلی حکومت میں ان مذہبی اور قوم پرستوں کا غلبہ ہے جن کے یہودی آباد کاروں کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔

امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ اسرائیل کی آبادکاری کی پالیسیوں پر تنقید کر رہی اور اس عمل کو روکنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں