سوڈان میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھنے لگے

بعض 12 سال عمر تک کی بچیاں بھی شامل، دنوں تک حراست میں رکھ کر ہوس کا نشانہ بنانے کی بھی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں فوج اور نیم فوجی گروپ آر ایس ایف کے درمیان جھڑپوں کے بعد شہریوں کے حقوق کی پامالیاں بڑھ گئی ہیں۔ بین الاقوامی انتباہات کے درمیان انسانی اور بین الاقوامی تنظیموں اور امدادی اہلکاروں نے انکشاف کیا ہے کہ سوڈان میں تنازع کے باعث خواتین اور لڑکیوں کی عصمت دری اور اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکیوں میں 12 سال تک کی عمر والی بچیاں بھی شامل ہیں۔

بچوں کے تحفظ کے ادارے ’’ سیو دی چلڈرن‘‘ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگجو نوعمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کررہے ہیں اور ایسے کیسز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق صنفی بنیاد پر تشدد میں قابل توجہ اضافہ کی اطلاع دی۔

ایسے وقت میں جب 15 اپریل کو سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد عصمت دری کے درجنوں واقعات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ سوڈانی حکومت کے خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے یونٹ نے کہا ہے کہ سامنے آنے والے واقعات اصل تعداد کا صرف 2 فیصد ہیں۔

سوڈان میں سیو دی چلڈرن کے کنٹری ڈائریکٹر عارف نور نے کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ سرکاری اعداد و شمار صرف برفانی تودے کا سرہ ہیں۔ 12 سال سے کم عمر لڑکیوں کو ان کی جنس، نسل یا کمزوری کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کچھ والدین اپنی بیٹیوں کو حملوں سے بچانے کی کوشش میں چھوٹی عمر میں ان کی شادی کر رہے ہیں۔ لڑکیوں کو دنوں تک حراست میں رکھنے اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی اور اجتماعی عصمت دری کے واقعات کی بھی اطلاعات ہیں۔

خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے یونٹ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے اغوا کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے خاص طور پر خرطوم میں یہ واقعات بہت زیادہ ہیں۔ یونٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان واقعات میں آر ایس ایف کے جنگجو ملوث ہیں۔

ریپڈ سپورٹ فورسز نے ان الزامات کا براہ راست جواب نہیں دیا کہ اس کے جنگجوؤں نے جنسی تشدد کے جرائم کا ارتکاب کیا لیکن کہا ہے کہ جو لوگ اس طرح کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ان کو جوابدہ بنایا جائے گا۔

اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ سوڈان میں 4.2 ملین افراد صنفی بنیاد پر تشدد کے خطرے سے دوچار ہیں۔ واضح رہے سوڈان کی آبادی 49 ملین ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے محفوظ مقامات کی تلاش میں جانے سے خطرہ تیزی سے بڑھ گیا۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہا کہ کچھ خواتین ریپ کے نتیجے میں حاملہ بھی ہو جاتی ہیں۔

یاد رہے جنگ کی وجہ سے سوڈان میں 2.9 ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور ان میں سے تقریباً 70 ہزار پڑوسی ملکوں کی طرف بھاگ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں