امریکی کانگریس میں اسرائیلی صدر کے خطاب کا بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتصوغ اپنے دو روزہ امریکی دورے کے آخری دن، بدھ کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ مگر اسرائیل حکومت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ سمیت متعدد مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے، بعض ڈیموکریٹک قانون سازوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ احتجاجا اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

ان میں رشیدہ طلیب بھی شامل ہیں جو کانگریس میں واحد فلسطینی نژاد امریکی ہیں۔

کانگریس میں نمائندہ الہان عمر نے ٹویٹر پر کہا کہ " اسرائیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ دائیں بازو کی حکومت کی حمایت سے اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کا خطاب، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کھلے عام فلسطینیوں کی ریاست کی امیدوں کو 'کچلنے' کا وعدہ کر رہی ہے - یہ بنیادی طور پر امن اور دو- ریاستی حل کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنا ہے"

رشیدہ طلیب، جو پہلی فلسطینی نژاد امریکی رکن ایوان ہیں، نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ ہرتصوغ کے خطاب کا بائیکاٹ کریں گی۔

انہوں نے "بائیکاٹ اپارتھائیڈ" کا پوسٹر تھامے ہوئے اپنی تصویر کے ساتھ لکھا کہ "میں نے کانگریس کے تمام ممبران پر زور دیا کہ جو سب کے انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہیں، وہ میرے ساتھ شامل ہوں۔"

رکن کانگریس جمال بومن نے کہا کہ وہ بھی اس کا بائیکاٹ کریں گے۔ ایک بیان میں اس تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "خطے میں تمام اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے اور دو ریاستی حل کے حصول کے بارے میں ضرورت کا کوئی احساس نہیں ہے۔"

رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے بھی شرکت سے انکار کردیا۔ ایک معاون نے کہا کہ انہوں نے اپنے بہت سے ساتھیوں کے خدشات بتائے۔

کانگریس کے اراکین کے لیے غیر ملکی رہنماؤں کے خطابات کا بائیکاٹ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل جون میں بھی کئی اراکین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کانگریس سے خطاب کا بائیکاٹ کیا تھا۔

پچاس سے زیادہ ڈیموکریٹس نے 2015 میں نیتن یاہو کے کانگریس سے خطاب کا بائیکاٹ کیا تھا۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن، جو اس وقت نائب صدر اور سینیٹ کے صدر تھے، بھی اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

اس حالیہ پیش رفت سے قبل ،امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کو ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کی توثیق کی گئی۔ انہوں نے ان ڈیموکریٹس ارکان پر تنقید کی جنہوں نے خطاب کے بائیکاٹ کا منصوبہ بنایا اور کانگریس میں ترقی پسندوں کے ایک بڑے گروپ کی رہنمائی کرنے والی رکن پرامیلا جے پال کے اس تبصرے کی بھی مذمت کی کہ اسرائیل ایک نسل پرست ریاست ہے۔ پرامیلا جے پال نے بعد میں اپنے اس بیان پر معافی مانگ لی.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں