اسرائیلی پولیس نے عدالتی ترامیم کے خلاف احتجاج کرنے والے 28 مظاہرین گرفتار کرلیے
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جوبائیڈن سےملاقات
اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ پولیس نے کل منگل کو عدالتی ترامیم کے خلاف احتجاج کرنے والے 28 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جب کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اسرائیل میں عدالتی ترامیم پر تبادلہ خیال کیا۔
دوسری طرف اسرائیل میں عدالتی ترامیم کے حکومتی اعلان کے خلاف احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔ کل منگل کو ہزاروں افراد کےسڑکوں پر احتجاج کے بعد ایک اور پیش رفت بھی سامنے آئی جب اسرائیلی فضائیہ کے 100پائلٹوں نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے عدالتی ترامیم کے خلاف اپنی خدمات انجام دینے سے انکار کردیا۔
ادھر بائیڈن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے اپنے پختہ عزم کی یقین دہانی کرائی۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔
اس کے علاوہ اسرائیلی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ زاچی ہنیگبی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ستمبر میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت کی تصدیق کی ہے۔
مدير مكتب #العربية في #فلسطين زياد حلبي يرصد تطورات دراماتيكية بسبب الاحتجاجات على إصلاح النظام القضائي: إغلاق مقرات وزارة الدفاع والبورصة ومحاور الطرق pic.twitter.com/k4GPyI7O1k
— العربية (@AlArabiya) July 18, 2023
اسرائیل میں منگل کو مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مظاہرین وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی طرف سے عدالتی ترامیم کے خلاف کئی ماہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ اسرائیلی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد عدلیہ کو کمزور کرنا اور سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنا ہے۔
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ مظاہرین نے تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کو گھیرے میں لے لیا اور بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے صبح سے 17 مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسرائیل کے اندر موجود عرب ذرائع نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) کو بتایا کہ مظاہرے اسرائیل کے الگ الگ حصوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئے۔
عینی شاہدین نے حیفا میں سینکڑوں مظاہرین کی نشاندہی کی جنہوں نے مرکزی سڑکوں کو بلاک کر رکھا تھا، جبکہ 200 سے زائد خواتین نے شہر کی ایک عدالت کے سامنے احتجاج میں شرکت کی۔
مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین کا مقصد اسرائیل میں نظام زندگی کو مفلوج کرنا اور بڑی سڑکوں کو بلاک کرنا تھا۔
عبرانی اخبار‘یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق مظاہرین نے ساحلی سڑک کو دونوں سمتوں میں بند کر دیا اور تل ابیب کی سڑکوں پر چلتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج کی عمارت تک پہنچ گئے۔
اسرائیل میں احتجاج کرنے والے رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ عدلیہ میں منصوبہ بند تبدیلیوں کا مقصد نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات سے بچنے کےلیے راہ ہموار کرنا ہے۔
-
عدالتی اصلاحات کے خلاف اسرائیل میں پھر مظاہرے، 17 افراد گرفتار
مظاہرین نے تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کا گھیراؤ کر لیا: نامہ نگار العربیہ
بين الاقوامى -
اسرائیل میں عدالتی نظام میں اصلاحات کے خلاف نئے مظاہرے
تل ابیب میں مظاہرین کی تعداد دسیوں ہزار تھی، حیفا اور بیر السبع میں بھی مظاہرے
مشرق وسطی -
اسرائیل میں الٹرا آرتھوڈوکس یہود نوازمتنازعہ بجٹ منظور ، تل ابیب میں مظاہرے
اسرائیلی کنیسٹ نے بدھ کو الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کے لیے متنازعہ صوابدیدی فنڈ کے ...
مشرق وسطی