لخت جگر کو بھوکا رکھ کر مارنے والی ظالم امریکی ’ماں‘ کو عمر قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکی ریاست ایری زونا کی ایک شقی القلب خاتون کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایلزبتھ آرکیبیک نے عدالت میں اپنے 6 سالہ بیٹے کو بھوکا رکھ کر قتل کرنے کا جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔

جمعرات کے روز سنائی جانے والی عمر قید کی سزا میں مجرمہ کو پیرول کی سہولت ملنے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔

گواہان کے بیانات سسنے کے بعد خاتون کو سزا سنائی گئی جنہوں نے اس چھوٹی سی الماری کا ہولناک منظر بیان کیا جس میں بچے کو بند کیا گیا تھا۔ اس میں سے بچے کا پیشاب باہر آتا تھا۔ اس چھوٹی سی الماری میں اس بچے اور اس کے نوجوان بھائی کو بند رکھا گیا اور کھانے دینے سے انکار کر دیا گیا۔

الزبتھ آرکیبیک کے وکیل نے کہا تھا کہ اس کی سزا میں 35 سال بعد پیرول کا امکان جزوی طور پر شامل ہے کیونکہ اس نے 2020 میں ڈیشون مارٹنیز کی موت میں درجہ اول کے قتل اور بچوں سے بدسلوکی کا جرم قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

لیکن کوکونینو سپیریئر کورٹ کے جج، ٹیڈ ریڈ نے قاتل خاتون کے بارے میں کہا کہ اگرچہ جرم پر اس کا اظہار ندامت حقیقی تھا، لیکن اس کا "گھناؤنا، ظالمانہ اور گھٹیا رویہ" "آپ کی باقی تمام فطری زندگی" کے لیے قید کی ضمانت دیتا ہے۔

ایک پولیس جاسوس نے جمعرات کو گواہی دی کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی اتنا خوفناک واقعہ نہیں دیکھا تھا – یہ کمزور لڑکوں کے لیے گویا ایک خوفناک خواب تھا جو 21 بائی 25 انچ )53 بائی 63 سینٹی میٹر( کی الماری میں دن میں 16 گھنٹے تک بند رہتے تھے۔

الزبتھ آرکی بیک فلیگ سٹاف، ایریزونا میں اپنی سزا کی سماعت میں شرکت کر رہی ہیں۔ (اے پی)
الزبتھ آرکی بیک فلیگ سٹاف، ایریزونا میں اپنی سزا کی سماعت میں شرکت کر رہی ہیں۔ (اے پی)

انتیس سالہ آرکی بیک نے جمعرات کو اپنی طرف سے گواہی دینے کے لیے مختصر وقت کے لیے کٹہرے میں آ کر اپنے بیٹے کی موت پر خود کو مورد الزام قرار دیا اور جو بھی سزا دی گئی، اسے پوری طرح قبول کیا۔

انہوں نے کہا کہ " میرے خوبصورت بچے کے ساتھ میری اپنی ذات کے ایک بہت بڑے حصے کی موت واقع ہوگئی۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ میں غمگین نہ ہوں۔۔۔ مجھے بہت افسوس ہے۔"

آرکی بیک کے ساتھ بچے کے باپ، انتھونی مارٹینیز، اور دادی این مارٹینیز کو بھی الزامات اور سزا کا سامنا ہے۔ ان پر قتل کا جرم تو ثابت نہیں ہوا لیکن ان پر قتل اور بچے سے زیادتی کے الزامات کے تحت الگ مقدمات چلائے جائیں گے۔آرکی بیک کے وکیل نے جمعرات کو تجویز دی کہ باپ اور دادی بھی بنیادی طور پر بچے سے زیادتی کے جرم میں شریک تھے۔

پوسٹ مارٹم سے ثابت ہوا کہ ڈیشون مارٹینز، جس کا وزن صرف 18 پاؤنڈ )8.1 کلوگرام( تھا، شدید بھوک سے مر گیا۔ 2 مارچ 2020 کو این مارٹینیز نے 911 پر کال کر کے کہا کہ اس کے خیال میں اس کا پوتا مر گیا تھا۔ جب حکام نے آ کر چیک کیا تو بچے کو مردہ پایا۔ بعد میں موت کے طریقے کو قتل عام کے طور پر درج کیا گیا۔

لڑکے کے والدین نے ابتدائی طور پر اپنے بیٹے کی غذائیت کی کمی کی یہ وجہ بتائی کہ اس کی طبی حالت خراب تھی اور اسے خوراک یا کیفین والی گولیاں دی گئی تھیں۔

بالآخر، انہوں نے پولیس کو بتا ہی دیا کہ انہوں نے اسے اور اس کے بڑے بھائی کو دن میں 16 گھنٹے ایک الماری میں بند رکھا اور انہیں بہت کم کھانے کو دیا گیا۔ دوسرا بھائی زندہ بچ گیا۔

پولیس نے بتایا کہ لڑکوں کا جرم تھا کھانا چوری کرنا جب کہ ان کے والدین سو رہے تھے۔ اس اپارٹمنٹ میں ان کی دو بہنیں، جن کی عمریں 4 اور 2 سال تھیں، صحت مند پائی گئیں جہاں وہ سب رہتے تھے۔

فلیگ سٹاف پولیس کی جاسوس میلیسا سی نے جمعرات کو سزا سنانے کے دوران گواہی دی کہ جس دن ڈیشون کی لاش فیملی کے فلیگ سٹاف اپارٹمنٹ سے ملی، انہوں نے اس دن اس چھوٹی سی کوٹھری کا جائزہ لیا جہاں لڑکے فرش پر نارنجی رنگ کے پلاسٹک کے ٹکڑے پر سوتے تھے اور وہاں سے پیشاب کی ناگوار بدبو آ رہی تھی۔"

سی نے کہا کہ "میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی خوفناک چیز کبھی نہیں دیکھی۔" انہوں نے کہا کہ دیشاون کی "صرف ہڈیاں تھیں۔"

سی نے کہا کہ "اس کا چہرہ مکمل طور پر اندر دھنسا ہوا تھا۔ وہ بالکل ایک ڈھانچے کی طرح تھا۔" انہوں نے کہا کہ اس کا بھائی زیادہ بہتر حالت میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اس کی ہڈیاں اس کی پیٹھ سے باہر نکلی ہوئی تھیں۔ مجھے اس کی پسلیاں نظر آ رہی تھیں۔"

ڈپٹی کاؤنٹی اٹارنی، مائیکل ٹننک نے کہاکہ " سزا کی سماعت کے دوران انہوں نے ثبوت والی تصاویر نہ دکھانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اتنی تکلیف دہ تھیں کہ کسی بھی شخص کے لیے انہیں برداشت کرنا مشکل تھا۔

براؤن نے کہا کہ "آرکی بیک، بچے کی پیدائش کے وقت میتھم فیٹامین کا عادی تھیں، ان کی پرورش تکلیف دہ ماحول میں ہوئی تھی اور وہ ذہنی مسائل کا شکار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر اور ساس نے انہیں جسمانی اور جذباتی استحصال کا نشانہ بنایا اور وہ اس صورت حال میں کچھ کرنے کے لیے خود کو "بے اختیار و بے بس" محسوس کرتی تھیں۔

براؤن نے کہا کہ آرکی بیک نے انہیں جیل کے ایک دورے کے دوران بتایا تھا کہ "میں یہاں خود کو اس سے زیادہ آزاد محسوس کرتی ہوں جتنا میں اس کے ساتھ رہتے ہوئے تھی۔"

انہوں نے کہا کہ آرکیبیک کو "اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ہو باقی کی زندگی جیل میں گذاریں گی" لیکن وہ اس بات پر "بہت مطمئن" ہیں کہ ان کے بچے ایک محفوظ جگہ پر ہیں۔

فریقین کے وکلاء کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے جج نے سزا سنانے سے پہلے کی تمام دستاویزات کو سربمہر کردیا کیونکہ وہ نہایت حساس نوعیت کی ہیں تاکہ دوسرے بچوں کی پرائیویسی محفوظ رہے۔

دیشاون کے بہن بھائیوں کو تحویل میں لینے والی رضاعی والدہ نے بتایا کہ اس کا بھائی "خوراک اور کھانے پینے کے معاملے میں اس قدر ذہنی صدمے کا شکار تھا" کہ وہ "ہر پانچ منٹ بعد پوچھتا تھا" کہ وہ اگلا کھانا کب کھائیں گے اور اس کے پاس "اسنیکس والا ایک چھوٹا سا لنچ باکس رکھا تھا جو کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ "

انہوں نے کہا کہ ایک بہن کو بات شروع کرنے میں تین سال لگے ہیں اور دوسری بہن کو "یہ یقین ہے کہ اس نے دونوں بھائیوں کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر بچایا۔"

انہوں نے کہا کہ ’’ان بچوں سے بہت کچھ چھین لیا گیا ہے۔‘‘ این مارٹینیز کے وکلاء 18 ستمبر کو ایک کیس مینجمنٹ کانفرنس میں پیش ہوں گے، اس کے مقدمے کی سماعت اب جنوری 2024 میں شروع ہوگی۔ انتھونی مارٹینز کا اس سال کے شروع میں ٹرائل ہونا تھا، لیکن مقدمے کی سماعت کی تاریخ ختم کر دی گئی تھی اور ابھی نئی تاریخ مقرر نہیں ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں