برکس میں توسیع آیندہ سربراہ کانفرنس کے اہم ایجنڈے میں شامل ہے: روس

برکس سربراہ اجلاس 22 سے 24 اگست تک جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا جیسے عالمی معیشتوں کے گروپ برکس میں متعدد نئے ممالک شامل ہونے کے خواہش مند ہیں اور اس گروپ کی توسیع کا موضوع ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔

یہ بات کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کے روز ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ درحقیقت برکس کی توسیع کا موضوع ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔اس پر آیندہ سربراہ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

پیسکوف چین کے گروپ کو تیزی سے متنوع بنانے کے تقاضے پر بھارت اور برازیل کی جانب سے مزاحمت کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ برکس کے رکن ممالک کے درمیان اس توسیع سے نمٹنے کے طریق کار پر اختلاف ہے۔

انھوں نے کہا کہ آیندہ سربراہ اجلاس کے دوران میں ان تمام پہلوؤں پر ضرور تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ کریملن کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ سربراہان مملکت (اس معاملے پر) اپنے موقف کے بارے میں بات کریں گے۔

برکس سربراہ اجلاس 22 سے 24 اگست تک جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں ہوگا۔ توقع ہے کہ رکن ممالک گروپ میں شامل ہونے کے لیے الجزائر اور بیلاروس جیسے متعدد ممالک کی سرکاری درخواستوں کا جائزہ لیں گے۔

کریملن نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پوتین اس سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ اگر پوتین جنوبی افریقا پہنچتے ہیں تو ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ وارنٹ کے تحت انھیں گرفتارکیا جاسکتا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لافروف اس اجلاس میں روس کی نمائندگی کریں گے۔ تاہم روسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر پوتین ویڈیو کے ذریعے کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں