"میٹیورائٹ ہنٹر" سانپوں اور بچھو کے درمیان بھرپور مہم جوئی کے خوفناک مناظر

العربیہ چینل پر نشرپروگرام میں شہابیوں کی تلاش کرنے والوں کو درپیش مشکلات کا احاطہ کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش کے صحرائی علاقوں میں برسوں سے لوگ اجسام فلکی، شہابیوں اور ’میٹیورائٹس ‘ سے بہ خوبی واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ’میٹیورائٹس ‘ کی کھوج میں نکلنے والے لوگ صحرانوردی کرتے اور ان کی تلاش کے لیے مشکل اور دشوار گذار سفر کرتے ہیں۔

مراکشی صحراؤں میں گرنے والے’میٹیورائٹس‘ کی تلاش کی وجہ سے یہ صحرا ان قیمتی اجسام سے خالی ہوگئے۔ لوگ انہیں تلاش کرتے اور معمولی قیمت پردوسرے ملکوں میں فروخت کرتے یا اسمگل کرتے۔ کچھ لوگ سائنسی تحقیقات کی غرض سے انہیں ریسرچ سینٹرز کو بھی فروخت کرتے رہےہیں۔

اسی کھوج کے مشن کے بارے میں العربیہ چینل پر نشر ہونے والے ’خصوصی مشن‘ پروگرام کی ٹیم نے مراکش کے صحراؤں میں شہابیوں کے متلاشیوں کا پیچھا کیا۔ تاکہ ان کی زندگیوں اور ان پتھروں کی تلاش کے بارے میں جان کاری حاصل کی جا سکے۔

"خصوصی مشن" کے مہمان محققین کو درپیش خطرات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحراؤں میں گرنے والے شہابیوں کی تلاش جان پر کھیلنے کا نام ہے۔ اس دوران بچھو اور سانپ ایک بڑا خطرہ ہوتے ہیں، اس کے علاوہ صحرا میں کھو جانا، پیاس کی شدت سے موت اور بارودی سرنگوں کا خطرہ۔

ایپی سوڈ میں ایک اطالوی محقق جو مراکش میں پتھروں کا مطالعہ کرنے آیا نے نئی سائنسی ٹیکنالوجی کے استعمال کے علاوہ اس میدان میں مراکش-اٹلی تعاون کے بارے میں بات کی۔ ایپی سوڈ میں، ایک مراکشی کی گائیڈ جو ایک غیر ملکی کے ساتھ سرحد پر اس وقت پکڑا گیا جب وہ شہابیوں کے ٹکڑے اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھےسے بھی بات ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ صحراؤں میں شہابیوں کی تلاش کوئی آسان مشن نہیں بلکہ یہ کام خود کو یہ خود کو موت کے خطرے میں ڈالنے والی بات ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں