ایرانی حکام نے شیعہ مزار پر فائرنگ کرکے کم از کم ایک شخص کو قتل کرنے والے مسلح شخص کو حراست میں لینے کے بعد مزید چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق گرفتاری سے متعلق خبر سرکاری میڈیا نے آج رپورٹ کی۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے بتایا کہ شاہ چراغ مزار پر حملہ دو مسلح افراد نے کیا، حملہ آوروں میں سے ایک کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ دوسرا حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
شاہ چراغ کے مزار میں آٹھویں شیعہ امام، امام رضا کے بھائی احمد مزار بھی واقع ہے، اسے جنوبی ایران کا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔
گذشتہ سال اکتوبر میں ایک مسلح شخص نے اسی مزار کو نشانہ بنایا تھا جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ داعش نے بعد میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
جولائی میں ایران نے گذشتہ سال اکتوبر میں اس بم حملے کے جُرم میں دو افراد کو سرعام پھانسی دے دی تھی۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے فارس کے صوبائی چیف جسٹس کاظم موسوی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حملے سے تعلق کے الزام میں اب تک چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ان چار مشتبہ افراد کی گرفتاری اس مسلح شخص کے علاوہ ہے جس کی گرفتاری کا اعلان اتوار کی رات کمانڈر اسلامی انقلابی گارڈز کور فارس یداللہ بوعلی نے کیا تھا جو سرکاری ٹی وی پر بات کر رہے تھے۔