امریکی قانون سازوں کی ایرانی قیدیوں کے معاہدے پر بائیڈن انتظامیہ کی سرزنش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

26 ریپبلکن قانون سازوں کے ایک گروپ نے جمعہ کے روز بائیڈن انتظامیہ کے ایران کے ساتھ قیدیوں کے لیے رقم کے معاہدے پر تنقید کی اور اس ہر عمل درآمد سے کانگریس کے ممکنہ انحراف کے لیے وضاحت کا مطالبہ کیا۔

واشنگٹن اور تہران نے عمانی اور قطری ثالثوں کے توسط سے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت ایران کے اربوں ڈالر کے فنڈز کو غیر منجمد کیا جائے گا اور غلط طریقے سے حراست میں لیے گئے پانچ امریکیوں کی رہائی کے بدلے میں ایرانی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

سینیٹرز نے سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن اور سیکرٹری خزانہ جینٹ ییلن کو ایک خط لکھا جس میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے تقریباً 6 بلین ڈالر جاری کرنے کے فیصلے پر اپنی "اہم تشویش" کا اظہار کیا۔

امریکی حکام نے معاہدے کا دفاع کیا اور کہا ہے کہ یہ فنڈز ایران کی جانب سے صرف انسانی مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے باوجود یہ کہ ایرانی حکام نے اس کے برعکس دعوے کیے ہیں۔ سینیٹرز نے سوال کیا ہے کہ امریکہ اس بات کو کیسے یقینی بنائے گا کہ ایرانی حکومت جاری کردہ فنڈز کو دہشت گرد نیٹ ورکس اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی حمایت کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ "اگرچہ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ کو بیرونِ ملک غلط طریقے سے حراست میں لیے گئے امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے تمام مناسب وسائل کا استعمال کرنا چاہیے لیکن یہ فیصلہ ناقابلِ یقین حد تک خطرناک مثال کو تقویت دے گا اور اس سے ایرانی حکومت کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی سرگرمیوں کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔"

اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ ایسا ہی ایک معاہدہ کیا تھا جب اس نے 2016 میں ایران کے زیرِ حراست امریکیوں کے بدلے میں 400 ملین ڈالر کے اثاثے ایران کو جاری کیے تھے۔

سینیٹرز نے اپنے خط میں لکھا۔ "سات سال بعد موجودہ انتظامیہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی ریاست کو اس رقم سے کم از کم پندرہ گنا مالیت کے تاوان کی ادائیگی کر رہی ہے جو امریکہ کی دیرینہ 'کوئی رعایت نہیں' والی پالیسی کی ایک اور خلاف ورزی ہے۔"

انہوں نے یہ بھی انتباہ کیا کہ اس سے مالی یا سیاسی فائدے کے بدلے صرف اضافی یرغمال بنانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

ایران نیوکلیئر ایگریمنٹ ریویو ایکٹ آف 2015 (آئی این اے آر اے) صدر کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی معاہدے کو نظرثانی کے لیے کانگریس کو بھیجے۔

واشنگٹن اور تہران کی جانب سے قیدیوں کے بدلے نقد معاہدے کی تصدیق کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے ہتھیاروں کے درجے کے قریب کا افزودہ یورینیم جمع کرنے کی رفتار کو سست اور اپنے کچھ ذخیرے کو کمزور کر دیا ہے۔ بلنکن نے کہا کہ وہ ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

جمعے کے روز ریپبلکن سینیٹرز نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ حالیہ معاہدہ کانگریس کو "پیچھے ہٹانے" اور ایران کو مالی طور پر معاوضہ دینے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش ہے تاکہ "2015 کے منحوس جوہری معاہدے کے جانشین پر دوبارہ بات چیت کی جائے۔"

بائیڈن انتظامیہ نے اوبامہ انتظامیہ کے تحت 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کو ترجیح دی تھی جو اب کالعدم ہو چکا ہے۔ لیکن بات چیت گذشتہ سال اس وقت تعطل کا شکار ہوگئی جب ایران نے نئے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے وعدوں سے انکار کردیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے دوران ایران کے بارے میں محکمہ خارجہ کے مشیر گیبریل نورونہا نے کہا کہ فوگی باٹم میں کیریئر کے سفارت کار اس معاہدے سے ناراض تھے جن میں سے کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ "یہ 100 فیصد تاوان کی ادائیگی ہے۔"

سینیٹر کرس مرفی سمیت ترقی پسند ڈیموکریٹس نے اس معاہدے کا سختی سے دفاع کیا ہے۔ مرفی جنہوں نے سابق ایرانی وزیرِ خارجہ سے اس وقت ملاقات کی جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عہدے پر تھے، نے کہا کہ جاری کردہ فنڈز ایران کے آغاز کرنے کے لیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں