یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں شہریوں کا معیارِ زندگی کس خوفناک حد تک پہنچ چکا ہے اس کا اندازہ ایک چونکا دینے والے واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔
تنخواہوں میں مسلسل رکاوٹ اور معاشی حالات کے زوال کے باعث، تعلیم کے شعبے سے وابستہ ایک یمنی باپ نے اپنی کم سن بیٹی سے لاتعلقی اختیار کر لی کیونکہ وہ اس کی دیکھ بھال اور ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھا۔
وزارت انصاف کی طرف سے جاری کردہ ایک دستاویز ظاہر کرتی ہے کہ وسطی یمن سے تعلق رکھنے والے شہری غالب عبدو نے اپنی بیٹی ابتہاج (8 سال) کو طاہر احمد الغربانی نامی ایک اور شہری کے حوالے کر دیا۔
دستاویز کے مطابق، بچی کا والد اپنے تمام فرائض سے دستبردار ہوگیا جب کہ بچی کی دیکھ بھال، پرورش اور اس کی شادی تک کے اخراجات الغربانی کو سونپ دیئے۔
نوکرانی بنا کر استحصال
میڈیا ایکٹیوسٹ، ابراہیم عسقین نے ''ایکس" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ، "دستاویز کا مطلب ہے کہ بچی کو اس کی ذاتی ضروریات کے بدلے فریق ثانی طاہر الغربانی اور ان کی اہلیہ کے لیے دس سال تک نوکرانی بنا کر استحصال کیا جائے گا۔ "
مالی مشکلات اور خاندانی تنازعات
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اپنی بیٹی سے لاتعلقی اختیار کرنے والا استاد 2016 میں ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں ملازمین کے لیے تنخواہوں میں تعطل کے بعد بیمار ہو گیا تھا۔
مالی مشکلات کا شکار استاد اپنی بیوی ام ابتہاج سے بھی علاحدگی اختیار کر چکا ہے۔
اس واقعے پر سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے آنے والے عرصے کے دوران سنگین اور خوفناک سانحات کی پیشین گوئی کرتے ہوئے بچی کی اس کے والد کے پاس واپسی، اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
-
سعودی عرب:یمن سرحد پرایتھوپیائی افرادکی ہلاکت سے متعلق ایچ آرڈبلیو کی رپورٹ مسترد
سعودی عرب نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومین رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کا یہ ...
بين الاقوامى -
شادی سے انکار پر یمنی شہری نے خاتون ساتھی کو قتل کر دیا
یمن کی ایک عدالت نے آج پیر کو ایک نوجوان کو جنوبی یمن کے شہر عدن میں ایک شاپنگ ...
مشرق وسطی -
یمنی تاجر کی ثالثی میں ترک شیف بوراک اور والد کے درمیان صلح ہوگئی
شدید اختلافات کے بعد ، ایسا لگتا ہے کہ ترک شیف بوراک اور ان کے والد کے درمیان ...
بين الاقوامى