روبیلز سے جنسی حملے کے الزامات کے تحت تحقیقات ہوں گی: ہسپانوی پراسیکیوٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ہسپانوی پبلک پراسیکیوٹر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے صدر لوئس روبیلز کے بوسے کے معاملے میں "جنسی زیادتی" کے الزامات کے تحت ابتدائی تحقیقات شروع کریں گے۔ روبیلز نے ویمن فٹ بال ورلڈ کپ جیتنے کے موقع پر سپین کی کھلاڑی کو بوسہ دیا تھا جس کے بعد فیفا نے روبیلز کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن آفس جنسی زیادتی کا جرم بن سکنے والے حقائق سے متعلق تحقیقات کا آغاز کرے گا۔ پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایجنسی فرانس پریس کو بھیجی گئی ایک پریس ریلیز میں وضاحت کی کہ ہرموسو کو بلایا گیا ہے کہ وہ پبلک پراسیکیوشن آفس سے 15 دنوں کے اندر رابطہ کریں تاکہ وہ متاثرہ خاتون کے طور پر اپنے حقوق حاصل کرسکیں اور شکایت درج کراسکیں۔

روبیلز نے 20 اگست کو سپین کی جانب سے آسٹریلیا میں ویمنز ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ہرموسو کو زبردستی ہونٹوں پر بوسہ دیا تھا۔ بعد ازاں مستعفی ہونے سے انکار کیا تھا جس کے بعد انہیں معطل کردیا گیا تھا۔

اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کو مسترد کرتے ہوئے روبیلز کی والدہ نے اپنے بیٹے کی حمایت میں بھوک ہڑتال شروع کردی۔ روبیلز کی ماں اینجلس بیجر نے جنوبی ساحلی قصبے موٹریل میں ڈیوینا پاسٹورا چرچ کے اندر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک بھوک ہڑتال جاری رکھے گی جب تک ہرموسو سچ نہیں بتا دیتی۔

ہرموسو نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں چینجنگ روم میں ہونے والی تقریبات کو دکھایا گیا۔ اس میں اس نے اپنے ساتھیوں کے بوسے کے بارے میں چھیڑ چھاڑ کا یہ کہہ کر جواب دیا کہ "مجھے یہ پسند نہیں آیا!" اور وہ ہنس پڑی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں