مراکش میں آنے والے زلزلے کے تیسرے دن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے دوران ایک گاؤں کے واحد بچ جانے والے شخص نے اپنے زندہ بچ جانے کو ایک معجزہ قرار دے دیا۔
پیر کے روز ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں شہری نے کہا میں معجزانہ طور پر بچ گیا۔ ’’ثلاثۃ یعقوب‘‘ گاؤں میں بڑے پیمانے پر تباہی آئی۔
شہری نے بتایا میں سونے ہی والا تھا۔ میں نے پہلے ایک چھوٹی سی آواز سنی تو میں اپنے بستر سے اٹھا اور اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ باہر چلا گیا اور چند ہی سیکنڈ بعد عمارت گر گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے گاؤں میں بہت کم لوگ زندہ بچ گئے کیونکہ زیادہ تر رہائشی مر گئے۔ بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
اس حوالے سے کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے مناظر سے پتہ چلتا ہے کہ ’’ثلاثۃ یعقوب‘‘ کے ساتھ بڑی تباہی ہوئی۔ مکمل طور پر تباہ شدہ گاؤں زلزلے کے مرکز ایگل کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ایگل ’’ثلاثۃ یعقوب‘‘ سے 10 کلومیٹر دور ہے۔
العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ وہ متاثرہ گاؤں میں تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتے کی صبح سے پہلے زلزلہ آنے کے بعد سے سڑکیں مکمل طور پر بند ہوگئی تھیں یہ سڑکیں پیر کو کھولی جا سکیں۔ اس بندش کی وجہ سے ’’ثلاثۃ یعقوب‘‘تک رسائی ناممکن ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس گاؤں کی طرف آنے والی سب سے مشکل سڑک بن گئی تھی۔
یاد رہے کہ 8 ستمبر جمعہ کی رات کو آنے والا یہ زلزلہ 1960 کے بعد مراکش میں متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے دوسرا بڑا زلزلہ ہے۔ 1960 میں آنے والے زلزلے میں 12 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ اس زلزلہ میں اب تک لگ بھگ اڑھائی ہزار اموات سامنے آگئی ہیں۔