مراکش میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد دبئی کے ایک ریستوران کو پیر کی رات متحدہ عرب امارات میں رہنے والے غمزدہ مراکشی شہریوں کے لئے پناہ گاہ میں تبدیل کردیا گیا جو اپنے آبائی ملک میں آنے والے زلزلے کی تباہ کاری اور ہلاکتوں پر ایک دوسرے کا غم بانٹتے رہے۔
ابو حائل کے پڑوس میں واقع البوغاز المغریبی ریستوراں نے اپنا کچن بند کر دیا اور متحدہ عرب امارات میں مراکشی شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔
اس اقدام کا مقصد لوگوں کو سوگ اور یکجہتی کے لیے اکٹھے ہونے کے لیے ایک جگہ فراہم کرنا تھا۔
" ریستوران کے مالک نے اخبار دی نیشنل کو بتایا۔ کہ"اگر ہم مراکش میں ہوتے تو ہم عملی امداد کی پیشکش کر سکتے تھے۔ لیکن دور ہونے کی وجہ سے، یہی ہے جو ہم اس وقت کر سکتے ہیں۔
جمعہ کو مراکش کے کئی علاقوں میں 6.8 شدت کے زلزلے نے تباہی مچائی اور اب تک تقریباً 2,900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اتوار کو ملک میں 3.9 شدت کا آفٹر شاک آیا، جس میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ریستوران میں دبئی اور عجمان کے مراکشی ائمہ نے متاثرین کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی اور آفت سے متاثرہ افراد کے لیے دعا کروائی۔
ریستوران نے مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ"ہم نے مراکش کے رہائشیوں کی غم زدہ افراد تعزیت کے لیے اس جگہ کو کھول دیا ہے خاص طور پر وہ جنہوں نے اپنے خاندان کے افراد کو کھو دیا اور وہ جو یہاں اپنے اہل خانہ سے دور اکیلے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں مراکشی کمیونٹی کے غم میں اکٹھے ہونے کے موقع کی تشہیر سوشل میڈیا پر کی گئی تھی، جس کا زبردست ردعمل ظاہر ہواکیا۔
اس دوران بہت سے شہریوں نے زلزلے کے حوالے سے اپنے اور مراکش میں موجود اپنے رشتہ داروں کے تجربات کا اشتراک کیا۔
-
تباہ شدہ گاؤں کی تقریبا ساری آبادی جاں بحق، بچ جانیوالے مراکشی نے کیا بتایا؟
مراکش میں آنے والے زلزلے کے تیسرے دن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے دوران ایک گاؤں ...
بين الاقوامى -
سعودی ولی عہد کا شاہِ مراکش کو فون؛زلزلے میں انسانی جانوں کے ضیاع پراظہارِتعزیت
سعودی حکام کو الم ناک سانحے کے اثرات کم کرنے کے لیے مراکش کوضروری ریلیف اورانسانی ...
بين الاقوامى -
مراکش زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 2862 تک پہنچ گئی
وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق مراکش میں آنے والے ہولناک زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد ...
بين الاقوامى