’’نمیرا سلیم کا سفر خلائی تحقیق میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی علامت ہے‘‘

نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کی پہلی پاکستانی خلا باز خاتون نمیرا سلیم سے گفتگو، مشن کے لئے کی کامیابی کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی سے پاکستان کی پہلی خلا باز خاتون نمیرا سلیم نے ملاقات کی اور انہیں پانچ اکتوبر کو اپنے خلائی سفر پر روانگی سے متعلق تیاریوں سے آگاہ کیا۔ نمیرا سلیم نے خلا میں پاکستانی پرچم بلند کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے نمیرا سلیم کو خلائی سفر شروع کرنے پر حکومت پاکستان، وزیر اعظم اور عوام کی طرف سے مبارکباد پیش کی اور ان کی کامیابی کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ نمیرا سلیم تمام خواتین کے لئے رول ماڈل ہیں، ان کا سفر خلائی تحقیق میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی علامت ہے جو قوم کے لئے اہم کامیابی ہے۔

نمیرا سلیم: سوشل میڈیا فوٹو
نمیرا سلیم: سوشل میڈیا فوٹو

مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ نمیرا سلیم کی اس کاوش سے پاکستان کے امن پسند اور ترقی پسند ملک کی حیثیت سے مثبت تشخص اجاگر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل زندگی کے مختلف شعبوں میں پاکستان کا نام دنیا میں بلند کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ نمیرا سلیم پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہیں قطبین پر پہنچنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ نمیرا سلیم 21 اپریل 2007ء کو قطب شمالی اور آٹھ جنوری 2008ء کو قطب جنوبی میں پاکستان کا پرچم لہرا چکی ہیں جبکہ آئندہ ماہ وہ خلائی سفر پر روانہ ہو رہی ہیں۔

یاد رہے کہ عام لوگوں کو خلا کا سفر کروانے والی امریکی کمپنی ورجن گیلیکٹک نے اعلان کیا ہے کہ پانچ اکتوبر 2023 کی متوقع پرواز میں سوار مسافروں میں ایک پاکستانی خلاباز بھی شامل ہے۔

ارب پتی سر رچرڈ برینسن کی کمپنی ورجن گیلیکٹک کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں اگرچہ پاکستانی خلاباز کی شناخت نہیں کی گئی، تاہم پاکستانی میڈیا میں گذشتہ ماہ رپورٹ ہونے والی ایک خبر میں نمیرا سلیم کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام سے قبل ورجن گلیکٹک پر سوار پہلی پاکستانی خلاباز کی حیثیت سے خلا میں قومی پرچم بلند کریں گی۔

نمیرا سلیم نے بھی آج اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے خلا کے سفر کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ستاروں تک پرواز کے لیے تیار ہیں۔ اس پرواز میں پاکستانی خاتون کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ سے دو دیگر خلاباز بھی شامل ہوں گے۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ورجن گلیکٹک کے عملے میں پائلٹ جمیل جنجوعہ کا نام شامل ہے۔ نام سے بظاہر وہ پاکستانی لگتے ہیں لیکن ان کے لنکڈاِن پروفائل میں انہوں نے جو زبانیں وہ جانتے ہیں، وہ واحد فرانسیسی لکھی ہے۔ وہ ماضی میں جنگی پائلٹ رہے ہیں۔

ورجن گلیکٹک ایک ایرو سپیس اور خلائی سفر کی کمپنی ہے، جو اپنی جدید فضائی اور خلائی گاڑیوں کے ساتھ نجی افراد اور محققین کے لیے خلائی پروازوں میں پیش پیش ہے۔ اس نے ایک خلائی پرواز کا نظام تیار کیا ہے، جو خلائی سفر کے ذریعے صارفین کو تبدیلی کا تجربہ پیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

مختصر سوانحی خاکہ نمیرا سلیم!

سمندر پار پاکستانیوں کی فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے مطابق نمیرا سلیم کراچی میں پیدا ہونے والی ایک پاکستانی ایکسپلورر اور آرٹسٹ ہیں۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے بین الاقوامی امور میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

جنوبی فرانس میں واقع آزاد ملک ’موناکو‘ میں میقم نمیرا سلیم کو 2006 میں حکومت پاکستان کی جانب سے ’پہلی پاکستانی خلاباز‘ کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

2007 میں نمیرا نے پاکستان کے لیے سیاحت کی اعزازی سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ اپریل 2007 میں قطب شمالی اور جنوری 2008 میں قطب جنوبی تک پہنچنے والی پہلی پاکستانی ہیں۔

انہیں تاریخی فرسٹ ایورسٹ سکائی ڈائیو 2008 کے دوران ماؤنٹ ایورسٹ پر سکائی ڈائیو کرنے والی پہلی ایشیائی اور پہلی پاکستانی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہیں 2011 میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں