سعودی وزارت خارجہ نے یمن میں امن عمل کی حمایت کے لیے روڈ میپ تک پہنچنے کے حوالے سے ہونے والی سنجیدہ بات چیت کے مثبت نتائج کا خیر مقدم کیا۔
اس بات چیت کا انعقاد سعودی مواصلاتی اور رابطہ ٹیم نے یمن میں سعودی سفیر محمد بن سعید الجابر، سلطنت عمان کی شرکت کے ساتھ کیا تھا۔
وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ 14 سے 18 ستمبر کے دوران ہونے والی بات چیت ان ملاقاتوں کے تسلسل کے طور پر سامنے آئی ہے جو سعودی ٹیم نے گذشتہ دور میں یمنی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین اور اراکین کے ساتھ 17 سے 22 رمضان المبارک 1444 ہجری تک صنعا میں کی تھیں۔جس میں بہت سے معاملات طے پائے۔
#بيان | ترحب وزارة الخارجية بالنتائج الإيجابية للنقاشات الجادة بشأن التوصل إلى خارطة طريق لدعم مسار السلام في اليمن، التي عقدها فريق التواصل والتنسيق السعودي برئاسة سفير خادم الحرمين الشريفين لدى اليمن محمد بن سعيد آل جابر، بمشاركة الأشقاء في سلطنة عمان مع وفد صنعاء، برئاسة محمد… pic.twitter.com/voteC9SAOV
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) September 20, 2023
وزارت خارجہ نے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور مملکت کا دورہ کرنے والے صنعاء کے وفد کے درمیان ملاقات کے مندرجات کی بھی تعریف کی، جس میں یمن اور اس کے عوام کے لیے مملکت کی مسلسل حمایت اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمن میں ایک جامع اور دیرپا سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے یمنی فریقین کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی ترغیب دینے پر زور دیا گیا تھا۔
یمنی وفد کی ریاض آمد
سعودی وزارت خارجہ نے اس سے قبل صنعاء کے ایک وفد کو مارچ 2021 میں اعلان کردہ ریاض اقدام کی بنیاد پر ملاقاتوں اور بات چیت کے لیے مدعو کیا تھا۔
امن عمل کا دوبارہ آغاز
عمانی وفد گذشتہ اگست میں 4 روزہ دورے کے لیے صنعا پہنچا تھا، جس کا مقصد اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ایک جامع انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی پر زور دینے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کے تناظر میں، ناکام امن کے عمل کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے سلامتی کونسل کو اپنی حالیہ بریفنگ میں اس بات کی تصدیق کی کہ تنازع کے فریقین حل تلاش کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کر رہے ہیں، لیکن انھوں نے اسے ٹھوس اقدامات میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قابل ذکر ہے کہ قیدیوں کے تبادلے اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ملک میں جاری بحران کے زیادہ جامع حل تک پہنچنے کے سلسلے میں گذشتہ جون میں بھی اردن میں یمن اور یمن کے درمیان مذاکرات کے کئی دور منعقد ہوئے تھے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں حوثیوں اور حکومت کے درمیان سینکڑوں قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔