عراق:شادی میں ہولناک آتش زدگی کے بعد دُلھا،دُلھن کی پہلی گفتگو:’ہم اندرسے مردہ ہوچکے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں شادی کی تقریب میں آتش زدگی کے نتیجے میں 100 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد دُلھا اور دُلھن کا کہنا ہے کہ وہ اندر سے خود کومردہ محسوس کر رہے ہیں۔

دُلھا ریون اور دُلھن حنین کی زندگی کا سب سے خوشگوار دن ایک خوف ناک شام میں بدل گیا تھا۔عراق کے شمالی صوبہ نینویٰ میں شادی ہال میں آگ لگنے سے نو بیاہتا جوڑا اپنے اہل خانہ اور قریبی رشتے داروں سے محروم ہوگیا۔

عروسا الحمدانية - نقلا عن سكاي نيوز الإنكليزية

اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ریون نے بتایا کہ ان کی اہلیہ حنین اپنی والدہ اور بھائی سمیت خاندان کے دس افراد کو کھونے کے بعد بات کرنے سے قاصر ہیں۔ان کے والد کی حالت نازک ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ سچ ہے کہ ہم یہاں زندہ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں لیکن اندر سے ہم مر چکے ہیں۔ہم بے حس وحرکت ہیں‘‘۔انھوں نے ویڈیو انٹرویو میں کہا کہ ’’ہم اندر سے مردہ ہو چکے ہیں‘‘۔

دُلھا نے اس اندوہناک سانحے میں اپنے خاندان کے 15 افراد کو کھو دیا ہے۔اگرچہ ابتدائی قیاس آرائیوں کے مطابق آگ گھر کے اندر آتش بازی کی وجہ سے لگی ہے لیکن ریون کا کہنا ہے کہ آگ چھت سے لگی تھی اور ان کا ماننا ہے کہ شارٹ سرکٹ اس کا ذمے دار ہو سکتا ہے۔

انھوں نے اسکائی نیوز کو بتایا:’’یہ شارٹ سرکٹ ہو سکتا ہے، مجھے نہیں معلوم۔ لیکن آگ چھت میں لگی۔ ہم نے گرمی محسوس کی... جب میں نے چھت پھٹنے کی آواز سنی تو میں نے اوپرکی طرف دیکھا۔پھر چھت، جو تمام نائلون سے آراستہ تھی، پگھلنے لگی۔ اس میں صرف چند سیکنڈ لگے‘‘۔

ریون کے مطابق اس مقام پر صرف ایک آگ بجھانے والا آلہ تھا جو کام نہیں کر رہا تھا۔شادی کی تقریب میں آگ لگنے کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری میں ، ریون نے اپنی دلھن کو فرار ہونے میں مدد کی کیونکہ وہ اپنے عروسی جوڑے کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’’میں نے اپنی بیوی کو پکڑ لیا اور میں نے اسے گھسیٹنا شروع کر دیا اور اسے گھسیٹتے ہوئے باورچی خانے کے داخلی دروازے سے باہر نکالنے کی کوشش کی کوشش کی۔ جیسے ہی لوگ بھاگ رہے تھے، لوگ اسے کچل رہے تھے۔ اس کی ٹانگیں اب زخمی ہیں‘‘۔

ان کی نو بیاہتا زندگی سوگ، جنازوں اور پیاروں کی تدفین کے تکلیف دہ مراحل سے بھری ہوئی ہے۔اس سانحے کے بعد جوڑے نے اپنے آبائی شہر الحمدانیہ سے باہر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’بس، ہم اب یہاں نہیں رہ سکتے۔ اب ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔ میرا مطلب ہے کہ جب بھی ہم کچھ خوشی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہمارے ساتھ کچھ ناکچھ افسوس ناک واقعہ ہوجاتا ہے اورخوشی کو تباہ کردیتا ہے،لہٰذا ہمارے لیے بہتر ہے کہ ہم یہاں سے چلے جائیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں