حماس فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا دفاع نہیں کررہی: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے "فلسطینیوں کے وقار اور خود ارادیت کے حق" کی حمایت کرتے ہوئے حماس کی اسرائیل کے خلاف عسکری کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

حماس فلسطینیوں کا دفاع نہیں کرتی

دونوں رہ نماؤں کے درمیان بات چیت کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق بائیڈن نے محمود عباس سے فلسطینی اتھارٹی کو "مکمل حمایت" فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس فلسطینی عوام کے وقار اور خود ارادیت کے حق کا دفاع نہیں کرتی۔

غزہ میں جبری نقل مکانی کی مخالفت

دوسری جانب فلسطینی صدر نے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر محمود عباس نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں فوری انسانی راہداری کھولنے، بنیادی سامان اور طبی سامان کی فراہمی اور وہاں کے شہریوں کو پانی، بجلی اور ایندھن کی فراہمی ضروری ہے۔

انہوں نے نے مغربی کنارے کے فلسطینی شہروں، دیہاتوں اور کیمپوں میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں انتہا پسندوں کی دراندازی فوری طور پر روکی جائے کیونکہ مسجد اقصیٰ پر دھاوے کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں"۔

"تصادم کا دائرہ وسیع کرنے سے بچنے کی کوششیں"

انہوں نے فلسطین کی جانب سے خطے میں جلد از جلد منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے آمادگی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ "سلامتی اور امن فلسطینی عوام کو ان کے مکمل، جائز حقوق دینے سے حاصل ہی ممکن ہے‘‘۔

جب کہ امریکی صدر نے اپنے فلسطینی ہم منصب کو تصادم کے دائرہ کار میں توسیع سے بچنے پر زور دیا۔ دونوں صدور نے غرب اردن میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کے روز اپنے اسرائیلی ہم منصب یو آو گیلنٹ کے ساتھ جنگی قوانین کی پابندی کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔

وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ آسٹن نے گیلنٹ کو مطلع کیا کہ "امریکا خطے میں اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ خطے میں کسی ملک کے اسرائیل کے خلاف حرکت میں آنے کے خطرے کو روکا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں