فلسطین اسرائیل تنازع

ایران مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملوں میں فعال سہولت فراہم کر رہا ہے: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وائٹ ہاؤس نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں ’فعال سہولت کاری‘‘ فراہم کر رہا ہے۔ اسرائیل اور غزہ کے فلسطینیوں کے درمیان جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ پر بھی وائٹ ہاؤس نے تشویش ظاہر کی ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے وائٹ ہاؤس میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ حماس اور حزب اللہ کو ایران کی حمایت ملتی ہے۔ ایران تمام واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور بعض حالات میں مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے فعال مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔ اس اقدام سے ایران ان حلقوں کو جاری تنازعہ کو اپنے یا ایران کے مخصوص مفادات کے لیے استعمال کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔


جان کربی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ایران اس معاملے پر گومگو کی کیفیت کا اظہار کر رہا ہے، لیکن ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔

قبل ازیں امریکی محکمہ دفاع پنٹاگان نے بتایا کہ عراق اور شام میں امریکی اہداف ہر بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں ان کے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں جس سے پتا چلتا ہو کہ یہ حملے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے براہ راست احکامات کی روشنی میں کیے جار ہے ہیں۔

سات اکتوبر کو اسرائیل اور غزہ کے درمیان تنازعہ کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فورسز کو کئی مرتبہ میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ حماس نے جنوبی اسرائیل میں حملے کیے ہیں۔

ایران کے سکیورٹی حکام نے رائیٹرز کو بتایا کہ تہران نے مشرق وسطیٰ میں اپنی پراکسی حزب اللہ کو اسرائیل پر محدود نوعیت کے حملوں کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ کسی ایسی بڑی لڑائی میں شامل ہونے سے گریز کریں جس میں آگے چل کر ایران کو بھی حصہ ڈالنا پڑ جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں