بھارت میں فلسطینی پرچم لہرانے پر چار افراد گرفتار
پرچم کرکٹ سٹیڈیم میں پاک بنگلہ دیش میچ کے دوران سٹیڈم میں لہرائے تھے
بھارت میں چار شہریوں کو کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ کے دوران فلسطین کے حق میں بینرز اور فلسطینی پرچم لہرانے پر حراست میں لے کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے میچ کے دوران سٹیڈیم میں پیش آیا ۔ جب کچھ لوگ فلسطین کے حق میں بینروں اور پرچموں کے ساتھ دیکھے گئے تھے۔
پچھلے سال فیفا ورلڈ کپ 2022 کے دوران قطر میں بھی ایسے بہت سے عرب نوجوانوں نے فلسطین کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ عرب نوجوان 'فلسطینی کاز' کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے تھے، مگر قطرپولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا تھا۔
Four people were detained at Maidan police station for waving Palestinian flag during the Pak-Ban World Cup cricket match at the Eden Gardens.
— Weisel🇮🇳 (@weiselaqua) November 1, 2023
The men belong to Jharkhand and Kolkata. pic.twitter.com/MbfpbVqIrm
البتہ بھارتی بحریہ کے آٹھ ریٹائرڈ افسروں اور اہلکاروں کو قطر میں جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے پر آج کل بھارت قطر سے نالاں ہے، غالباً اس لیے بھی بھارت نے ایک جیسے واقعے کے باوجود قطر سے مختلف رد عمل ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے پہلے کینیڈا اور اب قطر میں بھارتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی اس طرح کی جاسوسی میں بدنامی کے واقعے نے بھارت کے بارے میں عالمی سطح پر کئی سوال کھڑے کر دیے تھے۔
بھارت جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جو اسرائیل کی غزہ میں فلسطینیوں پر بد ترین بمباری کے باوجود اسرائیل کی حمایت میں کھڑا ہے۔ اسی لیے اس نے بھارتی سٹیڈیم میں فلسطینی عربوں کا پرچم اور ان کے حق میں بینر لہرانے پر گرفتاریاں کیں ۔
حراست میں لیے جانے والے چار افراد سٹیڈیم کے گیٹ نمبر 6 اور بلاک جی 1 کے ساتھ کھڑے تھے، یہ بات میدان پولیس تھانے میں ایک پولیس افسر نے بتائی ہے۔ تاہم بعد ازاں ملنے والی اطلاعات کے مطابق زیر حراست لیے گئے ان فلسطین کے حامی بھارتی شہریوں کو کچھ ہی دیر میں رہائی مل گئی۔
Liverpool fans show their support to Palestine. pic.twitter.com/yjBflqqjFu
— CentreGoals. (@centregoals) October 21, 2023
معلوم ہوا ہے کہ ان پرچم لہرانے والے افراد کا تعلق جھاڑ کھنڈ اور کولکتہ سے ہے۔ پولیس کے افسر نے اطیمنان ظاہر کیا کہ ان چاروں افراد میں سے کسی نے بھی فلسطین کے حق میں یا اسرائیل کے خلاف نعرے بازی نہیں کی۔ وہ صرف خاموشی سے پرچم لہرا رہے تھے۔
کولکتہ پولیس کے مطابق چاروں افراد کی عمریں بیس پچیس سال کے قریب تھیں اور وہ اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے خلاف احتجاجاً ایسا کر رہے تھے۔
-
اردن نے تل ابیب سے اپنا سفیر واپس بلوانے کا اعلان کر دیا
اردن نے تل ابیب سے اپنا سفیر واپس بلوانے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل سے کہا ہے کہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی یرغمالی بھی فلسطینیوں کی طرح ’موت‘ سے ہمکنار ہو رہے ہیں: اسماعیل ہنیہ
جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں سات یرغمالی بھی مارے گئے، حماس کا بیان
مشرق وسطی