اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’انروا‘پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ کے لوگوں کو جبراً نقل مکانی کروا رہا ہے۔ حماس کا یہ موقف بدھ کے روز سامنے آیا ہے۔
حماس کے میڈیا بیورو کے سربراہ سلامہ معروف کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ' انروا' اور اس کے حکام کو غزہ میں انسانی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ خصوصاً غزہ شہر اور اس کے شمالی حصے میں پیش آنے والے مصائب پر جو وہاں کے لوگوں کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
خیال رہے غزہ پر حملہ آور اسرائیلی فوج نے فلسطینی عوام سے شمالی غزہ سے نکل کر جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی کرنے کا کہہ رکھا ہے۔
دوسری جانب 'انروا' کے ترجمان نے حماس کے اس الزام کے بارے میں فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سلسلے میں 'انروا' سے میڈیا نے رابطہ بھی کیا ہے تاہم ' انروا' اور اس کے ترجمان خاموش ہیں۔
واضح رہے اقوام متحدہ اس سے پہلے یہ اعلان کر چکا ہے کہ سات اکتوبر سے اب تک پندرہ لاکھ شہری نقل اپنے گھروں کو چھوڑ چکے ہیں یا نقل مکانی کر چکے ہیں۔
-
اسرائیل دنیا کو اپنے خلاف کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے
ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ آگے کیا ہو گا۔اسرائیل کو ...
سیاست -
اسرائیلی حملے میں کوئی چیز واضح طور پر غلط ہے: انتونیو گوتیریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بدھ کو کہا ہے کہ غزہ میں ہونے والی ...
ایڈیٹر کی پسند -
"جنگ بند کرو"،اسرائیلی بمباری میں اپنے خاندان کو کھو دینے والی فلسطینی لڑکی کی فریاد
غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہر گذرتے لمحے قتل وغارت گری کے ...
مشرق وسطی