غزہ کا انتظام سنبھالنے کی خواہاں اتھارٹی کو دہشت گردی سے لڑنا ہوگا: نیتن یاھو

حماس کے ساتھ قیدیوں کے معاہدے کے قریب ہیں: اسرائیلی وزیر اعظم، حماس کو کوئی الزام نہیں دیتے: الفتح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی اتھارٹی غزہ کا انتظام کرنا چاہتی ہے اسے دہشت گردی سے لڑنا ہوگا اور امن کو قبول کرنا ہوگا۔ اتوار کو امریکی نیٹ ورک این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے حماس کے زیر حراست قیدیوں کی رہائی کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان کا عندیہ دیا۔

جب ان سے غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست خواتین، بچوں اور بوڑھوں کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو نیتن یاہو نے جواب دیا کہ یہ ممکن ہے۔ لیکن میں اس مسئلے کے بارے میں جتنی کم بات کروں گا اس کے حاصل ہونے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں جائیں گے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوجی دباؤ کی بدولت معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم اس وقت تک معاہدے تک پہنچنے کے بالکل بھی قریب نہیں تھے جب تک کہ ہم نے زمینی کارروائیاں شروع نہیں کیں۔ جیسے ہی ہم نے زمینی کارروائی شروع کی تو حالات بدلنے لگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں کا حماس کے رہنماؤں پر دباؤ ہے جو اسے معاہدے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر کوئی معاہدہ دستیاب ہے تو ہم اس کے بارے میں بات کریں گے۔ اگر معاہدہ طے پا جائے گا تو ہم اس کا اعلان کریں گے۔

اسرائیلی فوج کا اندازہ ہے کہ حماس کے حملے کے پہلے دن غزہ کی پٹی میں تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یرغمال بنائے گئے افراد میں کم از کم 30 کم سن بچے بھی شامل ہیں۔

فلسطینی ایوان صدر نے اتوار کے روز کہا کہ غزہ فلسطینی علاقوں کا اٹوٹ حصہ ہے اور اسرائیل کی اسے الگ کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کو 37 روز مکمل ہوگئے ہیں۔ اس جنگ میں اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں میں 11180 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ فلسطینی ایوان صدر نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے برپا کی گئی تباہ کن جنگ کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی بین الاقوامی کوششیں جو اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے کا باعث نہیں بن رہیں بیکار ہوں گی۔

الفتح تحریک کے سکریٹری حسین الشیخ نے ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ نیتن یاہو فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو تباہ کرنے کے لیے کام کر رہے اور غزہ کی پٹی میں جنگ کو طول دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ حسین الشیخ نے مزید کہا کہ صرف سیاسی حل ہی غزہ کی موجودہ جنگ کا خاتمہ کرے گا۔ فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں عالمی برادری خاموش ہے۔ غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے سکورٹی اور فوجی حل کام نہیں کریں گے۔

تحریک فتح کے سیکرٹری نے مزید کہا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن تمام فلسطینیوں کی نمائندگی کرتی ہے اور فلسطینی اتھارٹی غزہ کی پٹی کی صورتحال کا کوئی جزوی حل قبول نہیں کرے گی۔ ہم حماس کے رہنماؤں کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے۔ ہم ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن حماس کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو فلسطینی کاز کو ختم کرنے کے لیے نوآبادیاتی منصوبے منظور کر رہے ہیں۔ ہم غزہ کی جنگ کو مغربی کنارے سے الگ کرنے کے لیے اسرائیل کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں