سال ہا سال بے گناہ جیلوں میں قید کاٹنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں مگر امریکا میں اپنی نوعیت کا ایک عجیب واقعہ پیش آیا ہے۔
امریکی ریاست اوکلا ہوما کے ایک شخص پر ڈکیتی کا الزام عاید کیا گیا جس پر اسے پچاس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ پچاس سال کے بعد اسے اس جرم میں بری کردیا گیا ہے۔
جس کیس میں گلین سائمنز کو سزا ہوئی تھی وہ ڈکیتی کی ایسی واردات تھی جس میں متاثرہ شخص کی موت واقع ہوگئی تھی۔
امریکی ریاست اوکلاہوما کی عدالت نے اسے 48 سال ایک ماہ اور 18 دن جیل میں گزارنے کے بعد بری کر دیا۔ سائمنز ایک سیاہ فام قیدی ہے جو بری ہونے سے پہلے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ چکا ہے۔
سائمنز اورایک اورشخص ڈان رابرٹس کو 1975 میں ایڈمنڈ اوکلاہوما میں ایک ڈکیتی کے دوران ایک 30 سالہ اسٹور ملازم کو قتل کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔