سلامتی کونسل کاافغانستان میں صنفی مساوات وانسانی حقوق کےلیے نمائندہ مقررکرنے کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی سطح پر سب سے بڑے فیصلہ ساز فورم سلامتی کونسل جسے ان دنوں تقریباً تین ماہ سے غزہ میں جنگ کا چیلنج درپیش ہے نے افغانستان میں انسانی حقوق اور صنفی برابری کے اہداف حاصل کرنے کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کا مطلبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ منظور کردہ ایک قرار داد میں کیا گیا ہے۔ قرار داد جمعہ کے روز منظور کی گئی ہے۔ قرار داد میں سلامتی کونسل نے کہا افغانستان میں طالبان کےساتھ روابط میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کو چاہیے کہ ایک خصوصی نمائدے کا تقرر کرے۔

یہ پیش رفت ماہ نومبر میں پیش کردہ رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں طالبان کے ساتھ روابط کو موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ واضح رہے طالبان نے اٖفغانستان کا کنٹرول اگست 2021 میں سنبھالا تھا۔

جمعہ کے روز منظور کی گئی قرار داد میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک نمائندہ برائے افغانستان مقرر کریں۔ یہ نمائندہ انسانی حقوق اور صنفی مساوات کے امور کو بطور خاص دیکھ سکے۔

اس قرار داد کے حق میں 13 ووٹ آئے جبکہ روس اور چین نے قرار داد کے لیے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ہے۔

متحدہ عرب امارات اورجاپان اس امر پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ آزادانہ جائزے کی بنیاد پر بحث کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ بات جاپان کے سفیر نے قرار داد پر ووٹنگ سے پہلے کہی۔

یہ قرار داد افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے تعلقات اور روابط کو بڑھانے کے لیے ہے۔ یہ روابط تعمیری انداز کے ہوں۔

متحدہ عرب امارات اور جاپان دونوں افغانستان میں صورت حال کو زیر بحث لانے کے ذمہ دار تھے۔ واضح رہے طالبان کی حکومت کو باضاطہ طور پر سلامتی کونسل کے کسی رکن نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ طالبان حکومت کو ' ڈی فیکٹو' حکومت کا نام دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں