تونس میں زہریلی شراب پینے سے چار ہلاک اور چالیس ہسپتال پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تونس کے جنوبی علاقے میں زہریلی شراب استعمال کرنے سے کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 40 شرابیوں کی حالت غیر ہونے پر انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ اس امر کی تونس کے مقامی حکام نے بھی تصدیق کی ہے۔

اس سلسلے میں سرکاری ترجمان فتحی باکوچ نے بتایا ہے کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ یہ زہریلی شراب فراہم یا فروخت کرنے والا کون شخص ہے۔ ایک شخص کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے، تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں۔

ترجمان کے مطابق اس زہریلی شراب کا کیمیائی تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے، کہ اس میں زہریلا پن کیسے آیا اور اس کا ذمہ دار کون ہے کہ اتنی بڑی تعداد کو یہ زہریلی شراب فراہم کی گئی۔

سرکاری بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چالیس شرابیوں میں سے کئی حالت سنبھلنے پر ہسپتال سے ڈسچارج کر دیے گئے ہیں اور بعض متاثرہ افراد کو علاج کے لیے دارالحکومت کے بڑے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے تونس میں ملاوٹ شدہ اور جعلی شراب کا دھندہ عام ہے۔

صحت سے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ' 2021 میں بھی پانچ افراد پانچ افراد اسی طرح کی شراب پینے سے ہلاک ہوئے جبکہ 25 افراد کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ 2020 میں بھی 39 افراد کو زہریلی شراب پینا پڑی جن میں سے 6 افراد ہلاک کر دیے گئے۔

اس طرح کی شراب استعمال کرنے والوں میں بڑی تعداد مزدور طبقے کی ہوتی ہے۔ خیال رہے تونس میں شراب کی خرید و فروخت غیر قانونی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں