میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں ایک نسلی مسلح گروپ نے کہا کہ اس نے ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل ایک قصبے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس سے فوجی حکومت کو تازہ ترین نقصان ہوا ہے کیونکہ وہ ملک کے کئی حصوں میں بغاوت سے جنگ آزما ہے۔
میانمار متعدد محاذوں پر شورش کی زد میں ہے جہاں جمہوریت نواز متوازی حکومت کے حمایت یافتہ اور حکومت (جنتا) مخالف اتحادی گروپوں نے کئی فوجی چوکیوں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ 2021 میں ایک منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد سے یہ حکومت (جنتا) کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔
اراکان آرمی (اے اے) کے ترجمان نے اتوار کو تادیر کہا کہ انہوں نے دریائے کالادان پر واقع بندرگاہی شہر پلیتوا کو فتح کر لیا ہے جو ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اے اے کے ترجمان کھائن تھو کھا نے ایک بیان میں کہا، "سرحدی استحکام کے مسائل کے حوالے سے ہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعاون کریں گے۔" اور مزید کہا، گروپ علاقے میں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سنبھالے گا۔
جنتا کے ترجمان نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ رائٹرز آزادانہ طور پر اے اے کے دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔
مغرب میں پیلیتوا کا زوال تب ہوا جب تھری برادر ہڈ الائنس کے ایک اور باغی گروپ نے چین کی سرحد پر شمالی شان ریاست میں واقع لوکائی شہر پر قبضہ کر لیا۔
گذشتہ ہفتے جنتا نے چین کی سرحد سے متصل علاقے کے لیے ٹی این ایل اے گروپ کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ یہ مذاکرات چین کے شہر کنمنگ میں ہوئے اور چینی حکام نے اس کی سہولت فراہم کی۔
لیکن اتوار کو باغی اتحاد نے کہا کہ جنتا کی افواج شان ریاست میں کئی بستیوں پر حملے کر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی تھیں۔