غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان شدید جنگ کے باوجود ارجنٹائنی صدر جیویر ملے نے منگل کو اپنے ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا۔
ملے غیر ملکی دورے پر اسرائیل پہنچے ہیں جس کے دوران وہ تل ابیب اور پھر اٹلی جائیں گی جہاں وہ پوپ فرانسس سے ملاقات کریں گی۔
"یہودی سرگرمیوں میں شمولیت‘‘
جیویر ملے کا تل ابیب میں ربیوں سے ملاقات اور یروشلم میں یہودی مقامات کا دورہ کرنے کے علاوہ 7 اکتوبر کے حوالے سے یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے۔
وہ آج بدھ کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی بات چیت کرنے والے ہیں۔
ملے غزہ کے خلاف جنگ میں نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
"پہلے سے عملدرآمد کا اعلان"
گذشتہ نومبرمیں ارجنٹائن کی وزیر خارجہ ڈیانا مونڈینو نے کہا تھا کہ ان کا ملک اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیصلہ زیر بحث ہے اور توقع ہے کہ ارجنٹائن کے سفارت کاروں کے ارد گرد سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر ہوگی۔