انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانوی وزیر اعظم کے حالیہ بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں رشی سوناک نے فلسطینیوں کے احتجاج کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ یکم مارچ کو رشی سونک نے برطانیہ میں فلسطین کے حق میں احتجاج اور مظاہرے کرنے والوں کو ’شدت پسند‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ’برطانیہ میں مسلسل احتجاج جمہوریت کے لئے خطرہ ہے۔‘
برطانوی وزیر اعظم نے مزید کہا تھا کہ فلسطینیوں کے حق میں مسلسل احتجاج جمہوریت کے لئے خطرہ ہے، حماس کے حق میں بولنے والوں سے لڑنے کا وقت آ گیا ہے، ملک میں کسی تشدد اور دھمکیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رشی سوناک کے اس بیان کے بعد انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانوی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے خلاف لوگوں کے احتجاج کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل برطانیہ کے ڈائریکٹر الیاس ناگدی نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر مظالم کے خلاف پرامن احتجاج کو انتہا پسندی سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ کے شہری غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد ناقابل برداشت حد تک بڑھ رہی ہے، برطانوی حکومت مصائب کو روکنے کے لیے فوری جنگ بندی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔‘
الیاس ناگدی نے کہا کہ یہ ’انتہائی تشویشناک‘ ہے کہ حکومت مظاہروں پر مزید پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہے۔