پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی بمباری سے امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے واقعے کے نتیجے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات آزمائش کا شکار ہو گئے ہیں۔امدادی کارکنوں پر پیر کے روز اسرائیلی بمباری مین ایک پولینڈ کا شہری بھی ہلاک ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے اپنے پہلے باضابطہ رد عمل میں یہ بات کہی ہے۔
پولش وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنی پوسٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وارسا میں اسرائیلی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'آپ نے دونوں ملکوں کے درمیان یکجہتی کو آزماش میں ڈال دیا ہے۔'
انہوں نے مزید لکھا رضا کاروں کو اس طرح نشانہ بنا کر اور اس پر اپنے رد عمل سے آپ نے ایک قابل فہم غصہ پیدا کر دیا ہے۔' واضح رہے پیر کے روز اسرائیلی فوج کی بمباری سے غزہ کے بھوکے اور قحط کی زد میں آئے بے گھر فلسطئینیوں میں خوراک تقسیم کرنے والے سات رضا کار ہلاک ہو گئے تھے۔
ان سات رضا کاروں کا تعلق پولینڈ، برطانیہ، امریکہ۔ آسٹریلیا اور کینیڈا سے تھا۔ اسرائیلی فوج نے یہ تسلیم کیا ہے کہ رضا کاروں کی اس ٹیم نے غزہ میں خوارک تقسیم کرنے کی اپنی سرگرمی سے اسرائیلی حکام کو آگاہ کر رکھا تھا۔لیکن اس کے باوجود اسرائیلی فوج نے ان پر بمباری کر دی۔
اسرائیلی دفاع کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین غلطی تھی۔ مگر وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ میں ایک ایسا واقعہ پیش آگیا ہے۔ نیتن یاہو نے اس واقعے پر کوئی معذرت بھی نہیں کی ہے۔
پولش وزیر خارجہ راڈو سلا سکارسکی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا' اس واقعے سے پولینڈ میں یہود مخالف غصے میں اضافہ ہو گا۔ وزیر خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے پر پولینڈ کے عوام سے معافی مانگیں اور قیمتی انسانی جان کے ناحق قتل پر متاثرہ خاندانوں کو زرتلافی بھی ادا کریں۔'
پولینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا اگر یہ بات سچ ہے کہ رضا کاروں کو جان بوجھ کر مارا گیا ہے کہ اس میں ایک دہشت گرد شامل تھا، اور اس وجہ سے شہریوں کی جانیں قربان کی گئی تھیں، تو ایسے کسی نطام کو میں نہیں جانتا جس میں یہ بے گناہوں کی اس طرح جان لینا جائز ہو