پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا، جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں فوری طور پر ختم کر دے گا۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت ''فوری طور پر نافذ العمل ہوگی'' اور ابتدائی اقدامات کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران بلا تاخیر آبنائے ہرمز کو کھول دے گا، جبکہ امریکہ فوری طور پر بحری محاصرہ ختم کر دے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس اہم پیش رفت کے حوالے سے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک تقریب منعقد کی جائے گی، جہاں اس نمایاں پیش رفت کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ فنی مذاکرات کا بھی آغاز کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب ایرانی اور امریکی حکام نے بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کیے گئے معاہدے کے بنیادی خدوخال پر دُور سے دستخط ہو چکے ہیں اور یہ معاہدہ باقاعدہ طور پر نافذ بھی ہو گیا ہے۔
امریکہ اور ایران نے بدھ کے روز جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے کا متن جاری کر دیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہ کرے تو حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنے بعض سابقہ مؤقف میں نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے مکمل طور پر محروم کرنا ''غیر منصفانہ'' ہوگا، حالانکہ وہ اس سے قبل ان میزائلوں کو تباہ کرنے کا عزم ظاہر کر چکے تھے۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا:اگر انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ہم ان پر سخت بمباری کریں گے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، میں چاہتا ہوں کہ وہ معاہدے کی پاسداری کریں۔
انہوں نے ایرانیوں کو ''ذہین لوگ'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ساٹھ دنوں کے دوران امریکی اور ایرانی مذاکرات کار مستقل جنگ بندی کے لیے بات چیت کریں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا:اگر مجھے صورتحال پسند نہ آئی اور اگر انہوں نے مناسب طرزِ عمل اختیار نہ کیا تو ہم فوراً دوبارہ ان کے خلاف بمباری شروع کر دیں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا۔ ابتدائی کارروائیوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور متعدد سینئر فوجی حکام کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد تنازع ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہو گیا۔
اس کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں شدت اور ترقی پذیر ممالک میں غذائی رسد کے بحران کے خدشات پیدا ہوئے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی توقعات کے باعث بدھ کو تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد کم ترین سطح تھی۔
تاہم بعد ازاں قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جب ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر ایران کے طرزِ عمل سے وہ مطمئن نہ ہوئے تو جنگ دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا متن پڑھ کر سنایا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی اور قانونی طور پر پابند معاہدہ طے نہ ہونے تک دونوں فریق اس یادداشت سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔
14 نکات پر مشتمل اس معاہدے میں جس کا مسودہ جاری ہونے سے قبل ہی وسیع پیمانے پر زیرِ گردش تھا، اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک مستقل امن معاہدے اور حتمی جنگ بندی پر مذاکرات مکمل کر سکیں۔
امریکی اور ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس مفاہمتی یادداشت پر دور سے دستخط کیے ہیں، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ بدھ کے روز سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔
جی 7 رہنماؤں کا معاہدے کا خیرمقدم
ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں جنگ کے فوری خاتمے سے متعلق متعدد اہم شقیں شامل ہیں۔ معاہدے کے مطابق تمام محاذوں پر جنگی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں گی، جن میں لبنان بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال کی جائے گی، ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی پابندیاں ختم کی جائیں گی، ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائیں گی، منجمد ایرانی اثاثے آزاد کیے جائیں گے اور ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے عہد کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، ایک ایسا مؤقف جس پر تہران گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم ہونے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے دوران سخت اور جارحانہ بیانات دیے، تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز میں بیان کیے گئے امریکی اہداف میں سے بہت کم حاصل کیے جا سکے، جبکہ ایران اربوں ڈالر کی پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی فوائد کے حصول کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔
فرانس کے شہر ایویان لے بان میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
یورپی ممالک اگرچہ ایران کے جوہری پروگرام اور بعض دیگر معاملات پر امریکہ کے تحفظات سے اتفاق کرتے ہیں، تاہم انہوں نے کبھی بھی اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر جنگ شروع کرنے کے امریکی فیصلے کی حمایت نہیں کی۔
یورپی رہنما اس بات پر بھی تشویش رکھتے ہیں کہ ایران نے ایک بڑی عالمی طاقت کے حملے کے باوجود مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھا، جس سے اس کی علاقائی حیثیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
جی 7 رہنماؤں نے لبنان میں بھی فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ معاہدے میں اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے درمیان تمام جنگی کارروائیاں روکنے کی شق شامل ہے۔
دونوں فریقوں کے درمیان جاری لڑائی کے باعث دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔اگرچہ اتوار کو معاہدہ طے پانے کے بعد لبنان میں لڑائی کی شدت میں کمی آئی ہے، تاہم جھڑپیں مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں۔
اسرائیل جو ان مذاکرات کا فریق نہیں تھا، کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ٹرمپ کی نیتن یاہو پر تنقید، لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر اختلاف کا اظہار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حکمتِ عملی پر تحفظات کا اظہار کیا۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان لبنان کے معاملے پر کئی بار اختلافات سامنے آ چکے ہیں، کیونکہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں محدود کرنے پر آمادہ نہیں، جبکہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: نیتن یاہو ایک اچھے آدمی ہیں، لیکن بعض اوقات وہ ضرورت سے زیادہ جذباتی ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہمارا لبنان کے معاملے پر ایک معمولی اختلاف ہے۔ میں بی بی (نیتن یاہو) سے کہتا ہوں کہ آپ زیادہ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ ہر بار جب حزب اللہ کا کوئی رکن کسی عمارت میں داخل ہو، تو ضروری نہیں کہ پوری عمارت ہی تباہ کر دی جائے۔
دوسری جانب لبنانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ بدھ کے روز اسرائیل نے جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں پر نئے فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری کی۔
لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج پر دو ڈرون حملے کیے، تاہم تنظیم نے ان حملوں کی سرکاری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی۔بعد ازاں اسرائیل نے اعلان کیا کہ حزب اللہ کے دو ڈرون حملوں میں اس کے پانچ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔