ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے تئیں تہران کے طرزِ عمل کو طاقت کی سفارت کاری قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حالیہ مذاکرات 2015 کے ویانا جوہری مذاکرات سے بنیادی طور پر مختلف ہیں۔
وہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سرکاری ٹی وی (آئی آر آئی بی) پر نشر ہونے والے انٹرویو میں گفتگو کر رہے تھے۔ قالیباف نے کہا کہ ان کا ملک حالیہ فوجی کامیابیوں کی بدولت طاقت کے مقام سے تکنیکی مذاکرات میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مذاکرات میں کھوکھلے نعروں یا رعایتوں کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ مذاکراتی عمل مزاحمت کی ایک شکل ہے۔ ان کے مطابق ایران کی فوجی کامیابیوں کا اعتراف حلیفوں اور مخالفین دونوں نے کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مفاہمت کی یاد داشت امریکہ کی ناکامی کا ریکارڈ ہے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اس مفاہمت کا حصہ ہے اور وہاں سے گزرنے والی خدمات کی فیسوں کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان اور منجمد فنڈز کا مسئلہ مذاکرات کے اہم محوروں میں شامل تھا۔ خاص طور پر بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیل کے حملے کے بعد سے لبنان سے متعلق بحث نے مذاکرات کی رفتار اور سمت کو متاثر کیا ہے۔
یاد رہے کہ 2015 کا ویانا معاہدہ تہران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کے لیے تھا، جس سے امریکہ 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران دست بردار ہو گیا تھا۔ اس کے بعد تہران پر پابندیاں دوبارہ عائد کی گئیں۔
موجودہ مفاہمت کی یاد داشت کے تحت امریکہ دستخط ہوتے ہی ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں معطل کر دے گا۔ واشنگٹن 60 روزہ مذاکراتی مدت کے اختتام پر حتمی معاہدہ ہونے کی صورت میں تمام پابندیاں ہٹانے کا پابند ہے۔ معاہدے کے مطابق ایران کو 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت مکمل بحال کرنا ہو گی۔ دستاویز میں اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کم کرنے کا ذکر ہے، جسے امریکی عہدے دار نے واشنگٹن کے لیے بڑی فتح قرار دیا ہے۔
مزید برآں حتمی معاہدے کی صورت میں امریکہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی معاشی ترقی کے لیے 300 ارب امریکہ ڈالر سے کم نہ ہونے والی منصوبہ بندی کرنے کا پابند ہے۔ توقع ہے کہ دونوں ممالک اگلے دو ماہ میں یورینیم کے ذخیرے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بات چیت کریں گے۔