طلباء کی جانب سے کینیڈا کی بڑی یونیورسٹیوں میں فلسطینی حامی کیمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کیوبیک کے وزیرِ اعظم فرانکوئس لیگلٹ نے جمعرات کے روز کہا کہ مونٹریال کی میک گل یونیورسٹی میں کیمپ کو ختم ہو جانا چاہیے جبکہ زیادہ سے زیادہ طلباء نے کینیڈا کی کچھ بڑی یونیورسٹیوں میں فلسطینیوں کے حامی کیمپ قائم کر لیے اور مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے تعلقات رکھنے والے گروپوں سے مالی راوابط اور ان میں سرمایہ کاری ختم کر دیں۔

کینیڈین مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب پولیس امریکی یونیورسٹیوں کے کیمپسز میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کر رہی ہے اور غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جبکہ میک گل یونیورسٹی نے پولیس سے مداخلت کی درخواست کی تھی، قانون نافذ کرنے والے ادارے جمعرات کو کیمپ خالی کرنے کے لیے یونیورسٹی میں داخل نہیں ہوئے اور جمعرات کی شام ایک بیان میں کہا کہ وہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

طلباء نے کینیڈا کے سکولوں بشمول ٹورنٹو یونیورسٹی، یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اور اوٹاوا یونیورسٹی میں بھی احتجاجی کیمپ لگائے۔

لیگلٹ کے ترجمان نے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ کیمپ ختم کر دیا جائے۔ ہمیں پولیس پر اعتماد ہے، انہیں اپنا کام کرنے دیں۔"

مونٹریال میں جمعرات کو اسرائیل کی حمایت میں جوابی احتجاج بھی ہوا۔ دونوں اطراف کے مظاہرین کو الگ الگ رکھا گیا۔

جمعرات کی صبح ٹورنٹو یونیورسٹی کے طلباء نے سکول کے ڈاون ٹاون کیمپس میں گھاس والی احاطہ بند جگہ پر ایک کیمپ لگایا جہاں تقریباً 100 مظاہرین درجنوں خیموں کے ساتھ جمع تھے۔

منتظمین کے ایک بیان کے مطابق کیمپ اس وقت تک قائم رہے گا جب تک یونیورسٹی اپنی سرمایہ کاری کا انکشاف نہ کرے، "اسرائیلی نسل پرستی، قبضے اور فلسطین کی غیر قانونی آباد کاری کو برقرار رکھنے والے" کسی گروپ میں سرمایہ کاری اور بعض اسرائیلی تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت ختم نہ کر دے۔

اسرائیل کہتا ہے کہ وہ نسل پرستی میں حصہ نہیں لیتا اور غزہ پر اس کا حملہ نسل کشی نہیں ہے۔

یونیورسٹی کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ "مظاہرین کے ساتھ مکالمے میں ہے" اور یہ کہ دوپہر تک کیمپ "یونیورسٹی کی معمول کی سرگرمیوں میں مخل نہیں تھا۔"

ٹورنٹو یونیورسٹی کی گریجویٹ طالبہ اور کیمپ کی ترجمان سارہ راسخ نے رائٹرز کو بتایا کہ مطالبات پورے ہونے تک وہ وہیں رہیں گے۔

انہوں نے کہا، "اگر عوامی خلل ہی ہماری آواز سننے کا واحد راستہ ہے تو ہم ایسا کرنے کو تیار ہیں۔"

کچھ یہودی گروہوں نے مظاہرین پر سام دشمنی کا الزام لگایا ہے۔ منتظمین اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے کچھ مظاہرین یہودی ہیں۔

کیمپوں پر تبصرہ کرنے کے سوال پر وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے دفتر نے منگل کے روز ان کے ایک بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یونیورسٹیاں سیکھنے کی جگہیں ہیں، یہ آزادئ اظہار کے لیے جگہیں ہیں۔۔ لیکن یہ تب ہی کارآمد ہے جب لوگ کیمپس میں محفوظ محسوس کریں۔ اس وقت۔۔ یہودی طلباء خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔"

سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے حماس کے جنوبی اسرائیل پر مہلک حملے میں 1,200 افراد ہلاک ہو گئے اور درجنوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں اسرائیلی جارحیت میں تقریباً 34,000 افراد ہلاک ہو گئے اور ایک انسانی بحران پیدا ہوا۔ یہ مظاہرے ان واقعات کے بعد ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں