غزہ کی حمایت میں یونیورسٹی طلبہ کا احتجاج بیلجیم اور ہالینڈ تک پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے فلسطینیوں کے حق میں شروع ہونے والے مظاہرے دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے ہیں۔ اب بیلجیئم اور نیدرلینڈز کے طلبہ نے بھی غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ پیر کے روز طلبہ نے گنٹ اور ایمسٹرڈیم کی یونیورسٹیوں کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا۔ بیلجیئم یونیورسٹی آف گینٹ کے ترجمان نے کہا کہ تقریباً 100 طلبہ یونیورسٹی کے کچھ حصوں پر قابض ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کا کہنا ہے کہ احتجاج 8 مئی بروز بدھ تک جاری رہے گا۔ گنٹ یونیورسٹی نے طلبہ کے احتجاج کی درخواست کو منظور نہیں کیا لیکن یونیورسٹی کے متعدد ملازمین اور پروفیسرز نے احتجاج کی حمایت کرنے والے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں۔ اس خط میں یونیورسٹی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے کے فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔

یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے ترجمان نے بتایا کہ نیدرلینڈز میں طلبہ نے یونیورسٹی کے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنی اقتصادی اور تعلیمی شراکت بند کردے۔

ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں کیمپ

طلبہ نے پیر کو ایمسٹرڈیم یونیورسٹی کے کیمپس میں ایک کیمپ لگایا۔ طلبہ نے یونیورسٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ کے پس منظر میں اسرائیل سے تمام اپنے تعلقات منقطع کر دے۔ ڈچ میڈیا کی طرف سے شائع ہونے والی تصاویر میں یونیورسٹی کی عمارتوں کے درمیان گھاس پر لگ بھگ دس خیمے اور درجنوں طلبہ کو دکھایا گیا۔ کچھ طلبہ نے کیفیاں پہنے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری فوٹیج میں جگہ پر دو بینرز دکھائے گئے جن میں سے ایک میں لکھا تھا کہ "غزہ یکجہتی کیمپ۔" اور دوسرے میں ’’بائیکاٹ‘‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

احتجاج کے منتظمین میں سے ایک نے ڈچ نیوز ایجنسی ’’ آئی این بی‘‘ کو بتایا کہ ہم یہاں صرف دو دن کے لیے کیمپ لگانے کے لیے نہیں آئے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس یونیورسٹی کو بھی نسل کشی میں ملوث قرار دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں