دل کی شریانوں کے امراض یومیہ 10,000 یورپی باشندوں کی ہلاکت کا سبب ہیں:عالمی ادارۂ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی ادارۂ صحت نے بدھ کے روز کہا کہ دل کی شریانوں کے امراض یورپ میں 40 فیصد اموات کی وجہ ہیں۔ ادارے نے یورپی باشندوں پر زور دیا کہ وہ کھانے میں نمک کی مقدار کم کریں۔

یہ ایک دن میں 10,000 یا سال میں 40 لاکھ اموات کے برابر ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی یورپ برانچ کے ڈائریکٹر ہانس کلیوگ نے ایک بیان میں کہا، "نمک کی مقدار 25 فیصد تک کم کرنے کے لیے ہدفی پالیسیوں پر عمل درآمد سے 2030 تک دل کی بیماریوں سے 900,000 جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔"

یورپ میں 30 سے 79 سال کی عمر کے تین میں سے ایک بالغ فرد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے جس کی وجہ اکثر نمک کا استعمال ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ روزانہ نمک کی اوسط مقدار زیادہ سے زیادہ پانچ گرام یا ایک چائے کا چمچ ہے جبکہ ادارے کے یورپی خطے کے 53 میں سے 51 ممالک کے افراد اس سے زیادہ مقدار استعمال کرتے ہیں جس کی بڑی وجہ پروسیس شدہ کھانے اور سنیکس ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا، "زیادہ نمک کا استعمال بلڈ پریشر بڑھاتا ہے جس سے امراضِ قلب مثلاً دل کے دورے اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔"

ادارے نے کہا کہ یورپ میں بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی یورپ کی رپورٹ کے مطابق اس خطے میں خواتین کی نسبت مردوں میں امراضِ قلب سے موت کے امکانات تقریباً 2.5 گنا زیادہ ہیں۔

ایک جغرافیائی تقسیم بھی ہے: دل کی بیماری سے جوانی اور درمیانی عمر (30-69 سال) میں موت کا امکان مغربی یورپ کی نسبت مشرقی یورپ اور وسطِ ایشیا میں تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں